پاکستانی طلباء جو امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواب دیکھتے ہیں، ان کے لئے حالات مشکل تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ویزا پابندیوں میں شدت، ویزا منسوخی کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے، یونیورسٹی فنڈنگ محدود ہو رہی ہے اور اسلاموفوبیا میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ سب عوامل امریکی تعلیمی اداروں میں داخلے کے خواہشمند پاکستانی طلباء کے لئے ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔
شایان* اور ان کی بیوی علیا* نے اپنے سفری منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی تیاری میں مہینوں گزارے، جس میں ایک ممکنہ حج سفر بھی شامل تھا۔ مگر امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے طلباء ویزا منسوخی کی پالیسی نے ان کے منصوبوں کو خطرے میں ڈال دیا۔ شایان، جو امریکہ میں پی ایچ ڈی کا طالب علم ہے، اپنے ویزا کی منسوخی کے خطرے سے پریشان ہے کیونکہ اس کی تعلیم ابھی مکمل نہیں ہوئی۔
ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی طلباء کے خلاف اچانک کارروائی شروع کی، جس کی وجہ سے سینکڑوں طلباء کی ویزا منسوخ کر دی گئی۔ یونیورسٹیوں کی فنڈنگ بھی منجمد کر دی گئی ہے، جس کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے کے لئے امریکہ جانے کے خواب دیکھنے والے طلباء کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
شایان اور علیا کی فیملی نے امریکہ میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر وہ ملک سے باہر گئے تو واپس نہ آ سکیں گے، جو ان کے کیریئر کے لئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ان کی دو سالہ بیٹی جب بھی جہاز دیکھتی ہے تو اپنی نانی کے گھر جانے کی ضد کرتی ہے، مگر موجودہ حالات میں ان کا پاکستان واپس جانا ممکن نظر نہیں آتا۔
امریکی ویزا پالیسی کی سختیوں کے ساتھ، پاکستانی طلباء کی مستقبل کی منصوبہ بندی خطرے میں ہے۔ ویزا انٹرویو کے دوران پاکستانی طلباء کو اپنے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں اعتماد کے ساتھ بات کرنا ضروری ہے، مگر ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
بہت سے طلباء نے اب دیگر ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کے امکانات پر غور کرنا شروع کر دیا ہے، کیونکہ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنا اب ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ موجودہ صورتحال میں پاکستانی طلباء کے لئے یہ بات اہم ہے کہ وہ اپنی تعلیمی منصوبہ بندی میں لچک پیدا کریں اور متبادل راستوں پر غور کریں۔
امید ہے کہ مستقبل میں حالات بہتر ہوں گے، مگر اس وقت کے لئے پاکستانی طلباء کو اپنی تعلیمی منصوبہ بندی میں احتیاط سے کام لینا ہوگا۔ مختلف ممالک میں تعلیم کے متبادل راستے تلاش کرنا اب وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔

