پیرس: ویولنگ ایئرلائن کے خلاف احتجاج کے دوران ‘ہم زندہ رہیں گے’ نامی تنظیم کے اراکین نے اتوار کی شب پیرس کے اورلی ایئرپورٹ پر جمع ہو کر احتجاج کیا۔ یہ احتجاج اس وقت کیا گیا جب ویولنگ کی ایک پرواز میں یہودی بچوں کو سوار ہونے سے روک دیا گیا۔
یہ احتجاج اس واقعے کے خلاف تھا جس میں ویلنسیا ایئرپورٹ سے پیرس کے لیے روانہ ہونے والی ویولنگ کی ایک پرواز سے یہودی بچوں کو اتار دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد ‘ہم زندہ رہیں گے’ تنظیم نے ویولنگ کے خلاف مذمت کی اور کہا کہ یہودی بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک ناقابل قبول ہے۔
تنظیم کی صدر، سارہ ایزن مین نے کہا کہ اس واقعے نے ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے اینٹی سیمیٹزم کو بے نقاب کیا ہے۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا، “یہودی یا اسرائیلی ہونا کوئی جواز نہیں” اور “ویولنگ کو معافی مانگنی چاہیے”۔
مظاہرین نے پیر پیریٹ کی مشہور گانے کی دھن پر مبنی ایک ترمیم شدہ گانا بھی گایا جس میں انہوں نے ویولنگ اور ہسپانوی حکومت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
اس احتجاج کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، تاہم اس نے عوام کی توجہ اس مسئلے کی طرف مبذول کروا دی۔ سارہ ایزن مین نے کہا کہ یہ واقعہ اینٹی سیمیٹزم کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جس کا ہمیں سامنا ہے۔

