واقعے کی تفصیل
امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں بدھ کے روز نیشنل گارڈ کے دو فوجیوں پر گولیاں چلائی گئیں جس کے نتیجے میں دونوں کی حالت تشویشناک ہوگئی۔ یہ واقعہ وائٹ ہاؤس سے محض چند قدم کی دوری پر پیش آیا جبکہ ملک بھر میں تھینکس گیونگ کے موقع پر چھٹیوں کا آغاز ہورہا تھا۔
مشتبہ شخص کی شناخت
تفتیش کاروں کے مطابق گرفتار مشتبہ شخص 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکانوال ہے جو 2021 میں امریکی فوج کی واپسی کے دوران ‘آپریشن اتحادیوں کا استقبال’ کے تحت امریکہ منتقل ہوا تھا۔ امریکی میڈیا کے مطابق یہ شخص افغانستان میں امریکی فوج اور سی آئی اے کے ساتھ کام کرچکا ہے۔
- مشتبہ شخص نے دسمبر 2024 میں امریکہ میں پناہ کی درخواست جمع کرائی تھی
- وہ ابتدا میں ریاست واشنگٹن میں مقیم تھا
- مشرقی ساحل پر منتقل ہونے کی تاریخ نامعلوم ہے
فوجیوں کی حالت
مغربی ورجینیا سے تعینات دونوں فوجی شدید زخمی ہیں۔ ابتدا میں گورنر نے ان کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات دی تھیں لیکن بعد میں ان اطلاعات کی تردید کی گئی۔
نیشنل گارڈ کی تعیناتی پر تنازع
صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے گزشتہ چند ماہ سے ڈیموکریٹ میئرز والے شہروں میں نیشنل گارڈ تعینات کی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم جرائم سے نمٹنے کے لیے ہے جبکہ مخالفین اسے سیاسی چال قرار دے رہے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق فوجی کمانڈروں نے اپنے دستوں کو ‘بڑھتے ہوئے خطرات’ سے آگاہ کیا تھا۔ ایک فوجی نے کہا تھا: “مجھے معلوم تھا کہ ایسا ہوگا۔”
صدر ٹرمپ کا ردعمل
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے کو ‘قوم کے خلاف جرم’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ “برائی اور نفرت کا عمل” تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ صدر بائیڈن کی انتظامیہ نے 2021 میں اس مشتبہ شخص کو امریکہ لانے کی غلطی کی۔
- ٹرمپ نے افغانستان سے آئے تمام افراد کے اسٹیٹس کی ازسرنو جانچ کا اعلان کیا
- واشنگٹن کی سڑکوں پر 500 اضافی فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا
- زور دے کر کہا: “ہر غیرملکی جو یہاں جگہ کا مستحق نہیں ہے، نکالا جائے”
فوجی حقوق گروپ کا موقف
فوجی حقوق کے گروپ کامن ڈیفینس نے نیشنل گارڈ کی تعیناتی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ “یہ سانحہ سیاسی مقاصد کے لیے فوجی دستے تعینات کرنے کے سنگین خطرات کو ظاہر کرتی ہے۔”

