ڈاؤن ڈیٹیکٹر پر شکایات میں اچانک اضافہ
ایلون مسک کی ملکیت والی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پیر کی دوپہر عالمی خلل کا شکار ہو گئی جس کے باعث پاکستان، امریکہ، برطانیہ اور فرانس سمیت کئی ممالک کے صارفین پوسٹس دیکھنے اور شیئر کرنے سے قاصر رہے۔
کنیکٹیویٹی بحال، وجہ غیر واضح
ڈاؤن ڈیٹیکٹر ویب سائٹ کے مطابق، خلل کی شکایات میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والے اس خلل کے بعد 1530 GMT کے قریب سروس بحال ہو گئی اور صارفین معمول کے مطابق پلیٹ فارم استعمال کرنے لگے۔
کنیکٹیویٹی مانیٹر نیٹ بلاکس نے خلل کے دوران ماسٹوڈن پر پوسٹ کرتے ہوئے اسے ’بین الاقوامی آؤٹیج‘ قرار دیا۔ ادارے نے واضح کیا کہ یہ خلل کسی ملکی سطح کے انٹرنیٹ بندش یا فلٹرنگ سے متعلق نہیں تھا۔
گذشتہ ہفتے بھی اسی طرح کے مسائل
یہ پہلا موقع نہیں جب ایکس پر ایسا خلل پیدا ہوا ہے۔ نیٹ بلاکس کے مطابق، اس سے قبل 9 فروری (سپر بول کے اگلے دن) اور یکم فروری کو بھی اسی قسم کے مسائل رپورٹ ہوئے تھے۔
ایجنس فرانس پریس کے صحافیوں نے تصدیق کی کہ فرانس اور تھائی لینڈ سمیت کئی ممالک میں پیر کی دوپہر ایکس تک رسائی ممکن نہیں تھی۔ سروس بحال ہونے تک پلیٹ فارم کے ترجمانوں نے اس خلل پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
مسک کے زیر انتظام تبدیلیوں کا سلسلہ
یاد رہے کہ ایلون مسک نے 2022 میں ٹویٹر کو خرید کر اس کا نام تبدیل کر دیا تھا اور ہزاروں ملازمین کو برطرف کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے اسے اپنی ایگزے آئی کمپنی کے ساتھ ضم کر دیا جو گروک چیٹ بوٹ تیار کرتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ایگزے آئی کو جلد ہی مسک کی راکٹ کمپنی اسپیس ایکس میں ضم کر دیا جائے گا اور اس مشترکہ ادارے کے اس سال موسم گرما میں عوامی سطح پر آنے کی توقع ہے۔
