جارجیا میں آزاد صحافت کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آگئی ہے۔ ملک کی معروف صحافیہ اور آزاد اخبارات بیٹومیلیبی اور نیٹ گزٹی کی بانی و ایڈیٹر مزیا اماگھلوبیلی کو 14 جنوری کو عارضی حراست میں لے لیا گیا۔ انہیں ملک کے مغربی شہر باتومی میں دو روز قبل گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر شہر کے پولیس چیف ایراکلی ڈیگبوادزے پر حملے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس کی سزا چار سے سات سال قید ہو سکتی ہے۔
حکومت نواز چینل ایمیڈی کی جاری کردہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس ہیڈ کوارٹر کے باہر ہونے والے مظاہرے کے دوران صحافیہ اور پولیس افسر کے درمیان جھگڑا ہوا، جس میں مزیا اماگھلوبیلی نے پولیس افسر کو تھپڑ مارا۔ تاہم، متعدد آزاد میڈیا اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومت نواز میڈیا نے جان بوجھ کر پولیس کی جانب سے صحافیہ اور مظاہرین کے ساتھ ہونے والے سلوک کو چھپایا ہے، جسے وہ “اشتعال انگیزی” قرار دے رہے ہیں۔
منگل کو ہونے والی سماعت کے دوران مزیا اماگھلوبیلی نے باتومی کی عدالت کو للکارتے ہوئے نوبل انعام یافتہ فلپائنی صحافیہ ماریا ریسا کی کتاب “ہاؤ ٹو اسٹینڈ اپ ٹو اے ڈکٹیٹر” اٹھا کر دکھائی۔ احتجاج کے طور پر، بیٹومیلیبی اور نیٹ گزٹی نے تین گھنٹے کی ہڑتال کی۔ ان کے ویب سائٹس پر منگل کو سیاہ پس منظر کے ساتھ ایک پیغام شائع کیا گیا جس میں لکھا تھا، “یہ وہ جارجیا ہوگا جہاں تنقیدی میڈیا نہیں ہوگا۔ مزیا اماگھلوبیلی اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔”
صحافیہ کا فیصلہ 4 مارچ کو سنایا جائے گا۔ جارجیا میں آزاد صحافت کے خلاف یہ کارروائی ملک بھر میں تنقید کا باعث بنی ہے، جبکہ حکومت پر میڈیا کی آزادی کو کچلنے کے الزامات بھی لگ رہے ہیں۔
