امریکی صدر جو بائیڈن نے کیوبا کو دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام کیتھولک چرچ کی سربراہی میں جاری مذاکرات کو تقویت دینے اور جزیرے پر موجود ایک بڑی تعداد میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق، یہ فیصلہ ایک “خوش اخلاقی کا اشارہ” ہے جس سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ، جن کی جماعت کیوبا کی کمیونسٹ حکومت کے خلاف سخت موقف اختیار کرتی ہے، اگلے ہفتے صدارت کا حلف اٹھانے والے ہیں۔ یاد رہے کہ جنوری 2021 میں بائیڈن کو اقتدار سونپنے سے کچھ دن قبل ٹرمپ نے کیوبا کو دہشت گردی کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب یہ امکان بھی موجود ہے کہ ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد کیوبا کو اس فہرست میں واپس لے آئیں۔
ٹرمپ کے نامزد وزیر خارجہ اور فلوریڈا کے سینیٹر مارکو روبیو نے اپنی سیاسی زندگی کا بیشتر حصہ کیوبا کی کاسٹرو مخالف ڈائسپورا کی حمایت میں گزارا ہے۔ ان کے والدین 1956 میں کیوبا چھوڑ کر امریکہ آئے تھے، جو فیڈل کاسٹرو کے اقتدار میں آنے سے تین سال قبل کا واقعہ ہے۔
بائیڈن نے کیتھولک چرچ کی سربراہی میں جاری مذاکرات کو سپورٹ کرنے کے لیے دو اور اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان میں جولائی 2021 میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد گرفتار افراد کے معاملات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ بائیڈن نے کیوبا میں جائیدادوں کی ضبطی کے معاملات میں امریکی عدالتوں میں مقدمہ دائر کرنے کی سہولت کو معطل کر دیا ہے، جبکہ کچھ مالی پابندیاں بھی ہٹا دی گئی ہیں۔
ٹیکساس کے سینیٹر ٹیڈ کروز نے کیوبا کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کے فیصلے کو “ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے بائیڈن پر الزام لگایا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی آنے والی حکومت اور ریپبلکن اکثریتی کانگریس کے کام کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ دونوں سیاسی جماعتوں میں یہ رائے عام ہے کہ کیوبا میں بغیر کسی وجہ کے کسی کو قید نہیں رکھا جانا چاہیے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب امریکہ اور کیوبا کے درمیان تعلقات میں نئی گرمجوشی کی امید پیدا ہوئی ہے۔
