یورپ کی انسانی حقوق کی عدالت نے ایک ایسے فیصلے پر مہر ثبت کی ہے جو خواتین کے حقوق اور ازدواجی رضامندی کے حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ عدالت نے فرانس کی ایک خاتون کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بیوی اپنے شوہر کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے سے انکار کرتی ہے تو اسے طلاق کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ یہ فیصلہ ایک دہائی سے جاری قانونی تنازعے کا خاتمہ بھی ہے۔
انسانی حقوق کی یورپی عدالت (ای سی ایچ آر) نے جمعرات کو 69 سالہ فرانسیسی خاتون کے کیس میں واضح کیا کہ عدالتوں کو طلاق کے معاملات میں جنسی تعلقات سے انکار کو بنیاد نہیں بنانا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ فرانس نے یورپی انسانی حقوق کے قانون کے تحت نجی اور خاندانی زندگی کے احترام کے حق کی خلاف ورزی کی ہے۔
خاتون، جن کی شناخت ’ایچ ڈبلیو‘ کے طور پر کی گئی ہے، نے اس فیصلے کو ’ریپ کلچر‘ کے خاتمے اور شادی میں باہمی رضامندی کو فروغ دینے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خواتین کے حقوق کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
خاتون کی وکیل لیلیا مہسن نے کہا کہ اس فیصلے نے ’ازدواجی ذمہ داری‘ کے فرسودہ تصور کو ختم کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانسیسی عدالتوں کو اب رشتوں میں رضامندی اور مساوات کے جدید نظریات کو اپنانا چاہیے۔ خواتین کے حقوق کے گروپس نے بھی اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ فرانسیسی عدالتوں کے فرسودہ تصورات کو بدلنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
پیرس کے قریب رہنے والی اس خاتون نے 1984 میں اپنے شوہر سے شادی کی تھی۔ ان کے چار بچے تھے، جن میں ایک معذور بیٹی بھی شامل تھی۔ خاتون کے مطابق، بچوں کی پیدائش کے بعد ان کے شوہر سے تعلقات خراب ہو گئے اور انھیں صحت کے مسائل کا سامنا بھی رہا۔ 2002 میں شوہر نے ان کے ساتھ جسمانی اور زبانی بدسلوکی شروع کر دی، جس کے بعد 2004 میں خاتون نے شوہر کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا چھوڑ دیا۔ بالآخر 2012 میں دونوں نے طلاق کے لیے درخواست دی۔
خاتون نے طلاق کی مخالفت نہیں کی، لیکن انھیں شوہر کی جانب سے طلاق کے جواز (جنسی تعلق کا نہ ہونا) پر اعتراض تھا۔ 2019 میں فرانس کی عدالت نے خاتون کی شکایات کو مسترد کرتے ہوئے شوہر کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔ بعد ازاں، فرانس کی سب سے بڑی عدالت کورٹ آف کیسیشن نے بھی خاتون کی اپیل کو مسترد کر دیا تھا۔
سنہ 2021 میں خاتون نے ای سی ایچ آر میں اپنا کیس پیش کیا۔ عدالت نے اب واضح کیا ہے کہ حکومتوں کو صرف جنسیت جیسے معاملات میں بہت سنگین وجوہات کی بنا پر مداخلت کرنی چاہیے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شادی پر رضامند ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مستقبل میں ہر حال میں جنسی تعلقات قائم کرنے پر رضامندی ظاہر کی جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس میں شادی میں رضامندی جیسے معاملات پر توجہ بڑھ رہی ہے۔ حال ہی میں ڈومینک پیلیکوٹ کے خلاف ہائی پروفائل ٹرائل کے بعد اس موضوع پر بحث چھڑ گئی تھی۔ ڈومینک نے اپنی بیوی کو مدہوش کر کے کئی مردوں سے ان کا ریپ کروایا تھا۔
فیمنسٹ گروپوں کا کہنا ہے کہ ای سی ایچ آر کا فیصلہ فرانسیسی قوانین اور ثقافتی رویوں کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت کو تقویت دیتا ہے۔ فرانسیسی ارکان پارلیمنٹ کی ایک حالیہ رپورٹ میں ریپ کی قانونی تعریف میں عدم رضامندی کے تصور کو شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
میریٹل ریپ، یعنی شوہر کی جانب سے بیوی کی رضامندی کے بغیر اس سے جنسی تعلق قائم کرنا، دنیا کے 50 سے زائد ممالک میں جرم سمجھا جاتا ہے۔ وکیل ناصر علی کا کہنا ہے کہ میریٹل ریپ کا پتہ لگانا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ اس طرح کے معاملات میں ہمیشہ ایک باریک لکیر ہوتی ہے۔
یہ فیصلہ نہ صرف فرانس بلکہ پوری دنیا میں خواتین کے حقوق کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جو ازدواجی رضامندی اور جنسی تشدد کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کے لیے ایک امید کی کرن ثابت ہو سکتا ہے۔
