حکومت کی جانب سے دریائے سندھ سے چھ نئی نہریں نکالنے کے منصوبے نے سندھ کے عوام اور ماہرین ماحولیات کے درمیان شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف سندھ کے لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے زرخیز زمینیں بنجر ہو جائیں گی اور ماحولیاتی نظام پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
حکومت نے حال ہی میں دریائے سندھ سے چھ نئی نہریں نکالنے کی منظوری دی ہے، جن میں چولستان اور تھر کے علاقوں کو سیراب کرنے کے لیے بھی نہروں کی تعمیر شامل ہے۔ یہ نہریں ملک کی 48 لاکھ ایکڑ زمین پر گرین کارپوریٹ فارمنگ کے لیے نکالی جا رہی ہیں، جس میں تمام صوبوں کی زمینیں شامل ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ منصوبہ سندھ کے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ہے اور صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم سے متعلق معاہدوں کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ دریا کے ساتھ آبادیوں اور ماحول کی تباہی کا باعث بنے گا۔ سیاسی ماہرین کے مطابق، یہ منصوبہ سندھ کے عوام کے حق پر ڈاکہ ہے، جبکہ ماحولیاتی ماہرین اسے دریا کے ساتھ آبادیوں اور ماحول کی تباہی کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔
پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا، سینیٹ میں بھی دریائے سندھ کے پانی کو کارپوریٹ فارمنگ کے لیے موڑنے کے حکومتی منصوبے پر شدید بحث ہوئی ہے۔ ارکان نے اس معاملے کو مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر شیری رحمٰن نے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر چھ نئی نہریں تعمیر کرنے کی تجویز کو سندھ کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ چولستان کی بنجر زمینوں کو سیراب کرنے سے سندھ کی زرخیز زمینیں بنجر ہو سکتی ہیں، جس سے 20 ملین افراد بے گھر ہو جائیں گے اور زرعی پیداوار کو خطرہ لاحق ہوگا۔
جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بھی کہا ہے کہ 1991ء کے پانی کے معاہدے کے تحت پانی کی تقسیم پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے، اور اس منصوبے کو صرف اس صورت میں جائز قرار دیا جا سکتا ہے اگر اضافی پانی دستیاب ہو، جو کہ درحقیقت دستیاب نہیں ہے۔
ایڈووکیٹ وسند تھری، سندھ کی عوامی تحریک کے مرکزی صدر، نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ان نئی اسٹریٹجک کینالز کے ذریعے سندھ مکمل بنجر ہو جائے گا۔ سندھ کا تباہ حال انڈس ڈیلٹا، جو دنیا کا پانچواں بڑا ڈیلٹا اور رامسر سائٹ ہے، ختم ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں ملک ایسے خطرناک ماحولیاتی مسائل کا شکار ہو جائے گا جو دنیا بھر کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔‘‘
ماہرین کے مطابق، انڈس ڈیلٹا میں کوئی بھی نئی نہر سندھ کے نیچے کی آبادی پر سخت اثرات مرتب کرے گی، خاص طور پر انڈس ڈیلٹا کے ماحولیاتی نظام پر۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک سو پچاس سال کے عرصے سے انڈس دریا کا نظام مسلسل بند کیا جا رہا ہے اور موڑا جا رہا ہے۔ تقریباً 200 سال پہلے کی نسبت، انڈس ڈیلٹا 150 ملین ایکڑ فٹ سے زیادہ کم ہو چکا ہے، یعنی جس جگہ دریا سمندر سے ملتا ہے اس کا پھیلاؤ پہلے کی نسبت بہت زیادہ کم ہو چکا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ دریائے سندھ کا پانی ضائع ہونے کی باتیں بے بنیاد ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں اور آبی معاملات کے ماہر نصیر میمن کہتے ہیں کہ ضائع تو درکنار، پانی کی کم از کم مقدار جو انیس سو اکانوے کے آبی معاہدے کے تحت دس میلن ایکڑ فٹ طے پائی تھی، وہ انڈس ڈیلٹا یعنی اس مقام تک نہیں پہنچ پاتی جہاں دریا سمندر سے ملتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ جو نئی نہروں کی بات ہو رہی ہے، یہ نظام قدرت کو چھیڑنے کے مترادف ہے اور ایک خاص مقدار میں پانی کا ڈیلٹا تک پہنچنا ماحولیاتی فطری توازن کے لیے ناگزیر ہے۔‘‘
ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت اپنے کارپوریٹ فارمنگ منصوبوں کے لیے مخصوص علاقوں میں پانی کی فراہمی کے دیگر طریقے اپنا سکتی ہے، جو کمیونٹیز کے درمیان تنازعات سے بچنے کے ساتھ ساتھ ان منصوبوں کے لیے پانی کی پائیدار فراہمی کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ پانی کے وسائل کے ماہر ڈاکٹر حسن عباس کا کہنا ہے کہ ’’متبادل طریقے موجود ہیں اور وہ زیادہ پائیدار بھی ہیں۔ حکومت کو کارپوریٹ فارمنگ منصوبوں کے لیے دریائی کناروں سے پانی کے فلٹریشن اور پانی کی منتقلی کے لیے پمپ اور پائپ کے طریقے استعمال کرنے چاہییں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ نہریں موسمیاتی لحاظ سے پانی کی سپلائی کا دیرپا بندوبست نہیں ہیں۔ ڈاکٹر حسن عباس کا مزید کہنا تھا کہ ’’اگر پائپ کے ذریعے پانی منتقل کیا جائے تو حکومت راستے میں موجود محروم علاقوں کے رہنے والوں کو صاف پانی فراہم کر کے ان کے دل بھی جیت سکتی ہے۔ جہاں تک ان بڑے فارموں کی آبپاشی کا تعلق ہے، جن کی حکومت نے منصوبہ بندی کی ہے، ان کے لیے نئی آبپاشی ٹیکنالوجیز استعمال کی جانی چاہییں جیسا کہ ہائیڈروپونکس اور ڈرپ اریگیشن، جو کم پانی ضائع کرتی ہیں اور بہتر پیداوار دیتی ہیں۔‘‘
ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت کو کارپوریٹ فارمنگ کے لیے نہروں کے بجائے پائیدار اور ماحول دوست طریقے اپنانے چاہییں، تاکہ ماحولیاتی نظام کو مزید نقصان نہ پہنچے اور عوام کے حقوق کا تحفظ بھی ہو سکے۔
