پاکستان کی قومی ایئرلائن (پی آئی اے) کی پہلی کمرشل پرواز پیر کو نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کامیابی سے لینڈ کر گئی۔ یہ ہوائی اڈہ، جو رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا ہے، چین اور عمان کی مشترکہ سرمایہ کاری سے تعمیر کیا گیا ہے۔ پی آئی اے کا اے ٹی آر طیارہ صبح 11:15 بجے گوادر کے جدید سہولیات سے آراستہ ہوائی اڈے پر اترا، جس کے بعد وہاں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔
حکام کے مطابق، نیو گوادر ایئرپورٹ سالانہ چار لاکھ مسافروں کی گنجائش رکھتا ہے۔ اس منصوبے کی منظوری 2009 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے دی تھی، جبکہ تعمیر کا آغاز 2019 میں ہوا۔ اس ایئرپورٹ کو کمرشل پروازوں کے لیے مکمل طور پر فعال ہونے میں تقریباً 16 سال کا عرصہ لگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، خاص طور پر چینی انجینیئرز پر حملوں کے باعث، اس منصوبے میں تاخیر ہوئی۔
چین نے گوادر میں ایئرپورٹ کی تعمیر سمیت دیگر بڑے منصوبوں کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت، چین نے گوادر میں بندرگاہ کی تعمیر بھی کی ہے۔ نیو گوادر ایئرپورٹ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا ایک اہم منصوبہ ہے، جو گرانڈانی میں واقع ہے اور تقریباً 4,300 ایکڑ کے رقبے پر محیط ہے۔
سول ایوی ایشن کے ترجمان کے مطابق، یہ پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ایئرپورٹ ہے، جس کی تعمیر میں چین اور عمان کی گرانٹس شامل ہیں۔ اس کا رن وے 3.6 کلومیٹر طویل ہے، جو بوئنگ 747 اور ایئربس اے 380 جیسے بڑے طیاروں کی لینڈنگ کے لیے موزوں ہے۔ ایئرپورٹ میں جدید ایئر ٹریفک کنٹرول سسٹم، نیوی گیشنل ایڈز، اور جدید سکیورٹی خصوصیات کے ساتھ ساتھ مسافروں کی سہولتیں بھی دستیاب ہیں۔
وزیر دفاع و ہوا بازی خواجہ آصف نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیو گوادر ایئرپورٹ بلوچستان کے لوگوں کے لیے خوشحالی کا نیا دور لائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس سے سرمایہ کاری بڑھے گی، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، اور مقامی کاروبار کو فروغ ملے گا۔ خواجہ آصف نے اس منصوبے کو چین اور پاکستان کے درمیان تعاون کا ایک قابل ذکر کارنامہ قرار دیا۔
نیو گوادر ایئرپورٹ کی تعمیر کی لاگت میں وقت کے ساتھ کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ 2009 میں اس منصوبے کی لاگت 90.6 ملین ڈالرز تھی، جو اب بڑھ کر 246 ملین ڈالرز تک پہنچ گئی ہے۔ اس کی فنڈنگ میں حکومتِ پاکستان، پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی، سلطنتِ عمان، اور حکومتِ چین کے گرانٹس شامل ہیں۔
تاہم، اس ایئرپورٹ کے فعال ہونے کے باوجود، کچھ ماہرین کے مطابق اس کا فوری طور پر کوئی خاص استعمال نظر نہیں آتا۔ نیشنل پارٹی کے سینیٹر جان بلیدی کا کہنا ہے کہ گوادر ضلع میں پہلے سے چار ایئرپورٹس موجود ہیں، جن میں سے زیادہ تر غیر فعال ہیں۔ ان کے مطابق، اگر یہ ایئرپورٹ چین کے ساتھ سٹریٹجک مقاصد کے لیے استعمال ہو گا تو یہ الگ بات ہے، لیکن اس کے کمرشل اور معاشی فوائد کے امکانات فی الحال محدود ہیں۔
پی آئی اے کے شعبہ مارکیٹنگ کے سابق سینیئر اہلکار ارشاد غنی نے کہا کہ گوادر پورٹ کی ترقی اور شہر کے وسیع ہونے کے ساتھ ساتھ اس ایئرپورٹ کا استعمال بڑھے گا، لیکن فی الحال موجودہ صورتحال میں اس کا کوئی خاص استعمال نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق، سی پیک منصوبے کی سست روی کے باعث، گوادر ایئرپورٹ کا فائدہ بھی محدود ہو گا۔
نیو گوادر ایئرپورٹ کا افتتاح بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال اور احتجاجی مظاہروں کے باعث کئی بار ملتوی ہوا۔ ابتدا میں اس کا افتتاح 14 اگست 2024 کو ہونا تھا، لیکن بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاج کے باعث یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ بالآخر، 20 جنوری کو پہلی اے ٹی آر پرواز نے لینڈ کیا، جو عام طور پر پرانے ایئرپورٹ پر لینڈ کرتی تھی۔
اس منصوبے کے مستقبل کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا یہ خطیر رقم سے تیار ہونے والا ہوائی اڈہ اپنے مقاصد کو پورا کر پائے گا۔ ماہرین کے مطابق، گوادر کی ترقی اور سی پیک منصوبے کی کامیابی پر ہی اس ایئرپورٹ کا استعمال اور فائدہ منحصر ہو گا۔
