واشنگٹن: امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی تیز ہو گئی ہے جہاں ایک ہی دن میں 500 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق، امریکی ادارہ برائے نقل مکانی وکسٹم (ICE) نے ملک بھر کے مختلف علاقوں سے 538 غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ ان میں سے 373 افراد کے خلاف نگرانی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ یہ کارروائی امریکی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے متوقع اقدامات کا پہلا عملی قدم قرار دی جا رہی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ زیر حراست افراد میں سے کچھ کے نام اور ان کے سرزد کردہ جرائم بطور مثال سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے ہیں۔
نیوآرک شہر میں بھی غیر قانونی تارکین وطن کی گرفتاریوں کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ شہر کے میئر راس بااراکا نے اس کارروائی پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ “انسانوں کو غیر قانونی طور پر دہشت زدہ کیا جا رہا ہے اور میں اس کے خلاف خاموش نہیں رہوں گا۔” انہوں نے نیوآرک میں کی گئی کارروائی کو “خوفناک” قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ حراست میں لیے گئے افراد میں ایک سابق امریکی فوجی بھی شامل ہے۔
یہ اقدامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب کانگریس نے حال ہی میں غیر قانونی تارکین وطن کی روک تھام سے متعلق ایک نیا بل منظور کیا ہے۔ اس بل کو ‘لیکن ریلی ایکٹ’ کا نام دیا گیا ہے، جو ایک امریکی کالج کے طالب علم کے نام پر رکھا گیا ہے جو غیر قانونی تارکین وطن کے ہاتھوں ہلاک ہوا تھا۔
ماہرین کے مطابق، یہ کارروائیاں امریکہ میں امیگریشن پالیسیوں کے حوالے سے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
