بھارتی ٹیلی ویژن شو “کون بنے گا کروڑ پتی” ایک انتہائی مقبول اور پسندیدہ پروگرام ہے جس کی میزبانی معروف اداکار امیتابھ بچن کرتے ہیں۔ اس شو میں ناظرین کی دلچسپی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کچھ خوش نصیب افراد یہاں سے کروڑوں روپے کا انعام جیت کر اپنی زندگی کو بدل لیتے ہیں۔ 2011 میں اس شو کے پانچویں سیزن میں بہار سے تعلق رکھنے والے سشیل کمار نے پانچ کروڑ روپے کا انعام جیتا تھا، اور اسی کے ساتھ وہ اس شو کے پہلے پانچ کروڑ انعام جیتنے والے بن گئے تھے۔
سشیل کمار کی کامیابی نے انہیں بھارت کے ہر گھر میں مشہور کر دیا، مگر ان کی زندگی میں یہ بڑی انعامی رقم کوئی خاص تبدیلی نہ لا سکی۔ 2020 میں سشیل نے اپنی فیس بک پوسٹ میں اپنی زندگی کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انعام جیتنے کے بعد وہ نشے کے عادی ہو گئے اور لوگوں نے انہیں دھوکہ دہی کا نشانہ بنایا۔ ان کی بیوی کے ساتھ تعلقات بھی خراب ہونے لگے، اور کئی لوگ انہیں مختلف شوز میں بلا کر رقم عطیہ کرنے پر مجبور کرتے تھے۔
سشیل کمار نے اپنی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ ایک دن ایک صحافی سے گفتگو کے دوران، انہوں نے غصے میں بتایا کہ وہ اپنی ساری رقم ختم کر چکے ہیں اور اب گائے پال کر ان کا دودھ بیچ کر گزارہ کر رہے ہیں۔ اس بات کو سچ سمجھ کر جب یہ خبر پھیلی تو ان کے گرد موجود لوگ ان سے دور ہو گئے، اور انہیں پروگراموں میں بلانا بھی بند کر دیا گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ سشیل کمار مکمل طور پر کنگال نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی مالی حالت پہلے سے بہتر ہے، اور حقیقتاً انہیں ٹیکس کٹوتی کے بعد صرف 3.50 کروڑ روپے ملے تھے۔ آج کل وہ سائیکالوجی کے سرکاری ٹیچر کے طور پر کام کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ شجرکاری کی مہم میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔ سشیل کمار کی یہ کہانی یقیناً ان لوگوں کے لیے سبق آموز ہے جو بڑی کامیابیوں کے بعد اپنے راستے بھول جاتے ہیں۔
