مشرق وسطیٰ میں جاری اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی نے ایک نیا موڑ اختیار کر لیا ہے جہاں اسرائیلی فضائی حملے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جوہری نگران ایجنسی آئی اے ای اے نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے اصفہان میں واقع سینٹری فیوج ورکشاپ کو ہدف بنایا ہے۔ یہ ایران کی تیسری جوہری تنصیب ہے جسے حالیہ ہفتے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایرانی حکومت نے ان حملوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے جوہری مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا ہے جب تک اسرائیلی حملے بند نہیں ہوتے۔ اس تنازعہ کے باعث جرمنی نے تہران میں اپنے سفارتی عملے کو عارضی طور پر ایران سے باہر منتقل کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ کے مطابق، سینکڑوں امریکی شہری بھی ایران چھوڑ چکے ہیں۔
ایران نے ایک جرمن سائیکلسٹ کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے جو جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام جرمنی پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔
ایران کی وزارت صحت کے مطابق، اسرائیلی حملوں میں اب تک 400 سے زائد ایرانی شہری ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے طیارے ایران کے جنوب مغربی علاقے میں فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یہ تنازعہ مہاجرت کے ایک نئے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ ایران میں انٹرنیٹ سروس کی بندش بھی جاری ہے جسے اسرائیلی سائبر حملوں کے خدشات سے جوڑا جا رہا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے ایران کے ساتھ مذاکرات تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ جوہری بحران کا پُرامن حل نکالا جا سکے۔ خلیجی ممالک نے بھی جوہری تنصیبات کے حملوں کے خطرناک نتائج سے خبردار کیا ہے۔ دوسری جانب، ترکی نے اسرائیل کو خطے کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور دیگر مسلم ممالک کو ایران کی حمایت کی اپیل کی ہے۔
اس دوران ایران نے اسرائیلی انٹیلیجنس سے تعلق کے شبے میں 22 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور عالمی برادری کی کوششوں کے باوجود حالات میں بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔
