فرانس کے وزیراعظم فرانسوا بےرو 31 اگست بروز اتوار شام 6 بجے متیگنون سے براہ راست چار نشریاتی اداروں کے ساتھ انٹرویو دیں گے۔ وزیراعظم، جو 8 ستمبر کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے والے ہیں، چار نامور صحافیوں کے سوالات کا جواب دیں گے جن میں ڈیریس روشیبن (ایل سی آئی)، میریم انکاوہ (فرانس انفو)، مارک فوویل (بی ایف ایم ٹی وی) اور سونیا مبروک (سی نیوز) شامل ہیں۔
وزیراعظم نے بدھ کو پہلے ہی ٹی ایف 1 پر عوام سے خطاب کیا اور اب اپنی مہم جاری رکھتے ہوئے انہوں نے “قرض کے بوجھ” اور اخراجات میں کمی کی ضرورت پر روشنی ڈالی ہے تاکہ وہ اپنے عہدے پر برقرار رہ سکیں۔ تاہم، اپوزیشن جماعتوں نے پہلے ہی عدم اعتماد کی یقین دہانی کروائی ہے، اور مختلف اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کو آیندہ ہفتے مشاورت کے لئے متیگنون مدعو کیا گیا ہے۔ تاہم، لافرانس انسومیز اور ماحولیاتی جماعتیں اس ملاقات میں شرکت سے انکار کرچکی ہیں۔
جمعہ کے روز فرانسوا بےرو نے ایک مرتبہ پھر “بومرز” یعنی بزرگ شہریوں سے اپیل کی کہ وہ نوجوانوں کی مشکلات سے غافل نہ رہیں اور اپنے اعتماد والے فیصلے کی حمایت کریں۔
فرانسوا بےرو نے اپنے خطاب میں کہا کہ قرض، نوجوانوں کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے، جو ان کے ترقیاتی منصوبوں، زندگانی مقاصد، اور کیریئر کی راہ میں حائل ہے۔ انہوں نے شالوں ان شیمپین میں زراعتی میلہ کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ “نوجوانوں کو عزت دی جائے اور ان کا ساتھ دیا جائے بجائے اس کے کہ ان پر وہ ذمہ داریاں ڈالی جائیں جن پر ان کی رائے شامل نہیں تھی”۔
وزیراعظم نے ٹی ایف 1 پر اپنی تنقید کا دفاع بھی کیا جس میں بزرگوں کو ملک کے قرض کی بوجھ کے لئے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، انہوں نے کہا کہ متعدد نوجوانوں نے یہ اظہار کیا کہ پہلی بار کسی نے ان کے بارے میں بات کی۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ یہ وقت کی بڑی ضرورت ہے کہ قرض کے موجودہ بوجھ کو کم کیا جائے جو 2029 تک 100 ارب یورو سے تجاوز کر سکتا ہے، جیسا کہ عدالت حسابات نے پیش گوئی کی ہے۔
فرانسوا بےرو نے ان لوگوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے 44 ارب یورو کی بچت پر تنقید کی، جو حکومت کا اگلے سال کا ہدف ہے، اور کہا کہ یہ حدف پورا کرنا ضروری ہے تاکہ چار سال کے اندر اندر ملک کی معاشی حالت کو مستحکم کیا جا سکے۔
یہ خبر فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) کے تعاون سے تیار کی گئی ہے۔
