فولیز برگیرے تھیٹر کے پیچھے ریکارڈ ہونے والی ویڈیو سے پیدا ہونے والا تنازع
فرانس کی خاتون اول بریگیٹ میکرون کے ایک نجی ویڈیو میں فیمنسٹ کارکنوں کے لیے استعمال کیے گئے متنازعہ الفاظ ‘سالس کون’ (گندی عورتیں) نے ملک بھر میں شدید تنقید اور احتجاج کو جنم دیا ہے۔ یہ ویڈیو اتوار 7 دسمبر کو فولیز برگیرے تھیٹر کے پیچھے ریکارڈ ہوئی، جہاں میکرون نے مزاحکار آری ابیٹان کے شو میں مداخلت کرنے والی #NousToutes مہم کی کارکنوں کے لیے یہ الفاظ استعمال کیے۔
فرانسیسی فنکاروں اور اداکاراؤں کی یکجہتی
سماجی میڈیا پر تنازعے کے بعد متعدد معروف فرانسیسی خواتین نے #JeSuisUneSaleConne (میں بھی ایک گندی عورت ہوں) ہیش ٹیگ کے ذریعے فیمنسٹ تنظیموں اور جنسی تشدد کی شکار خواتین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
- اداکارہ جودیث گوڈریچے نے لکھا: “میں بھی ایک گندی عورت ہوں، اور میں باقی سب کی حمایت کرتی ہوں۔”
- ماریون کوٹیارڈ نے کہا: “میں ایک گندی عورت ہوں اور مجھے اس پر فخر ہے۔”
- الیکزاندرا لامی نے طنزیہ انداز میں کہا: “اب ہمیں سمجھ آتی ہے کہ ان تنظیموں کے بجٹ میں کمی کیوں ہے۔”
گانے والیوں کلارا لوچیانی اور آنجیل، مصنفہ کامی کوشنر اور ہدایتکارہ انڈریا بیسکونڈ نے بھی #NousToutes کارکنوں کی حمایت کا اعلان کیا۔
حکومتی ردعمل اور بین الاقوامی توجہ
حکومت کی ترجمان ماڈ بریگن نے فرانس 2 پر بریگیٹ میکرون کے دفاع میں کہا کہ انہوں نے “برجستہ طور پر” اور “نجی ماحول میں” بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ “انہیں بریگیٹ میکرون کو پرسکون رہنے دیں۔”
قومی اسمبلی کی صدر یائل براؤن-پیوٹ نے زیادہ معتدل موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ مزاحکار کے معاملے میں presumption of innocence (بے گناہی کا مفروضہ) پر سوال اٹھانا “خطرناک” ہے، لیکن ساتھ ہی انہوں نے بریگیٹ میکرون کے استعمال کردہ الفاظ کو “قابل مذمت” قرار دیا۔
فیمنسٹ تنظیموں کا مطالبہ
ساٹھ سے زائد فیمنسٹ تنظیموں کے اتحاد ‘گرève Féministe’ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبصرے “معمولی نہیں ہیں” کیونکہ یہ “فیمنسٹوں کے خلاف نفرت کو جواز فراہم کرتے ہیں۔” تنظیم نے بریگیٹ میکرون سے عوامی معافی اور جنسی تشدد کی واضح مذمت کا مطالبہ کیا۔
ابیٹان کیس اور صدر میکرون کا ماضی کا موقف
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب مزاحکار آری ابیٹان پر 2021 میں زیادتی کے الزامات عائد کیے گئے تھے، جن پر تین سال کی تفتیش کے بعد مقدمہ خارج کر دیا گیا۔ ان کے شوز پر احتجاج معمول بن چکا ہے۔
یہ معاملہ صدر ایمانوئل میکرون کے اس وقت کے بیان کی بھی یاد دلاتا ہے جب انہوں نے 2023 میں جنسی زیادتی کے الزامات کا سامنا کرنے والے اداکار گیرار ڈیپارڈیو کی حمایت کی تھی، جس پر فیمنسٹ گروپوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا تھا۔
