لاہور فورینسک لیب اور پی ای سی کے ماہرین ڈھانچے کا معائنہ کریں گے
کراچی: گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں لگنے والی مہلک آگ کا 10 روزہ طویل تلاشی اور ریسکیو آپریشن اختتام پذیر ہو گیا ہے اور جلی ہوئی عمارت کو ضلعی انتظامیہ نے سیل کر دیا ہے۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کا کہنا ہے کہ لاہور فورینسک لیبارٹری اور پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) کے ماہرین عمارت کا معائنہ کریں گے اور اس ڈھانچے کی مکمل جانچ میں ایک ہفتے سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے۔
73 اموات، 23 متاثرین کی شناخت
ضلعی انتظامیہ کے مطابق گل پلازہ کی عمارت کو پہلے ہی خطرناک اور غیر محفوظ قرار دے دیا گیا تھا۔ فورینسک ٹیم آگ لگنے کی وجوہات پر ماہرین کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
بندرگاہی شہر میں گزشتہ دس سال سے زائد عرصے میں سب سے بڑی یہ آگ 17 جنوری کو لگی تھی جو تیزی سے اس وسیع شاپنگ کمپلیکس میں پھیل گئی۔ یہ کمپلیکس 1200 خاندانی دکانوں کے لیے مشہور تھا جو دولہا دلہن کے کپڑے، کھلونے، برتن اور دیگر سامان فروخت کرتی تھیں۔
اب تک آگ میں کم از کم 73 افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، جن میں سے 23 ہلاکتوں کی ڈی این اے نمونوں کے ذریعے شناخت ہو سکی ہے۔
ایف آئی آر درج، تحقیقات جاری
نبی بخش پولیس اسٹیشن میں لاپروائی اور غفلت کے تحت پہلا اطلاعاتی رپورٹ (ایف آئی آر) درج کیا گیا ہے۔ سندھ کے وزیر داخلہ زیاءالحسن لنجار نے کہا کہ تخریب کاری یا دہشت گردی کے خدشات تھے لیکن معاملہ واضح نہیں ہے۔ اگر ثبوت ملتے ہیں تو ایف آئی آر میں دہشت گردی کے دفعات شامل کی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ سندھ کی اہم اعلانات
سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے اس مقام پر دکانوں کی دوبارہ تعمیر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ کے باقی حصے کو گرایا جائے گا اور مالکان کو دوبارہ تعمیر کے بعد اتنے ہی دکانیں فراہم کی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ نے سندھ اسمبلی کے فلور پر یقین دہانی کرائی کہ ہلاکتوں کے اہل خانہ کو 10 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، “یہ ایک بہت بڑا سانحہ ہے۔ انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں۔”
کابینہ کا 10 لاکھ روپے معاوضے کی منظوری
اس دوران، صوبائی کابینہ نے متاثرہ خاندانوں کے لیے 10 لاکھ روپے معاوضے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میں ہونے والی اس میٹنگ میں گل پلازہ واقعہ پر ایک ذیلی کمیٹی کے قیام کی بھی منظوری دی گئی۔
ذیلی کمیٹی، جس کی سربراہی خود وزیراعلیٰ کریں گے، میں ناصر حسین شاہ، زیاءاللہ لنجار، شارجیل میمن اور سعید غنی شامل ہیں۔ یہ کمیٹی کراچی کمشنر کی سربراہی میں بننے والی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لے گی۔
متاثرہ دکانداروں کے لیے امداد
وزیراعلیٰ نے کہا کہ متاثرہ دکانداروں کو کراچی کمشنر کے ذریعے یوٹیلٹی اخراجات کے لیے 5 لاکھ روپے فی کس دیے جا رہے ہیں۔ کابینہ نے گل پلازہ کے دکانداروں کو 10 لاکھ روپے سود فری قرضے دینے کی بھی منظوری دی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی، “یہ قرضہ دکانداروں کو اپنا کاروبار دوبارہ شروع کرنے کے لیے دیا جا رہا ہے۔ سندھ حکومت 10 لاکھ روپے پر آنے والے سود کی ادائیگی کرے گی۔” ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دکانداروں کو دو ماہ کے اندر اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے دکانیں فراہم کی جائیں گی۔
