سندھ کے وزیر داخلہ نے کہا کہ سیکیورٹی پروٹوکول کے تحت برقرار ہے، جبکہ ایم کیو ایم پی کا اصرار ہے کہ اسے واپس لے لیا گیا تھا
سندھ حکومت نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی) کے ان دعووں کی سختی سے تردید کی ہے کہ اس کے رہنماؤں اور اراکین اسمبنی سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔ وزیر داخلہ سندھ زیاءالحسن لنجر نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی اور جو تحفظ قانونی و سیکیورٹی تحفظات کے تحت دیا گیا تھا وہ اب بھی جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم پی کے رہنما اور وفاقی وزراء مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول صدیقی اسلام آباد میں ہیں، اور کسی بھی شخص کو دی گئی سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی۔ تاہم، ذرائع کے مطابق صدیقی، کمال، فاروق ستار اور انیس قائم خانی کی سیکیورٹی بحال کر دی گئی ہے۔
ایم کیو ایم پی کا موقف: گُل پلازہ پر تنقید کی وجہ سے سیکیورٹی واپس لی گئی
ایم کیو ایم پی کے رہنما سید امین الحق نے اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ سندھ حکومت نے گُل پلازہ سانحہ پر تنقید کی پاداش میں ایم کیو ایم پی رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کے بعد سندھ حکومت گھبراہٹ کا شکار ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی سندھ حکومت کی نااہلی کو عوام کے سامنے بے نقاب کرتی رہے گی اور سیکیورٹی واپس لینے سے خوفزدہ نہیں ہو گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی سڑکوں پر آنے کا اعلان کر سکتی ہے۔
حکومتی ترجمان کا ردعمل: ’جھوٹا بیانیہ اور منفی پروپیگنڈہ‘
سندھ حکومت کی ترجمان صومیتہ افضال سید نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم پی نے ’ایک بار پھر جھوٹے بیانیے اور منفی پروپیگنڈے کا سہارا لیا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ایم کیو ایم پی وزیر یا رہنما کی سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی، اور جو لوگ تحفظ کے مستحق ہیں انہیں قانون و سیکیورٹی پروٹوکول کے مطابق مکمل تحفظ حاصل ہے۔
سینئر سندھ وزیر شارجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت ’کسی کو نقصان نہیں پہنچا رہی‘ اور ’حکومت آپ کے ساتھ ہے‘۔ انہوں نے گُل پلازہ میں آگ کے واقعے کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے بعد ’ملک بھر کی تمام حکومتوں نے انتظامات شروع کر دیے‘۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا موقف
وفاقی وزیر صحت اور ایم کیو ایم پی کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے جیو نیوز کو بتایا کہ ان کی سیکیورٹی بھی واپس لے لی گئی ہے۔ انہوں نے گُل پلازہ سانحہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے نگرانی کی ناکامی قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکام کا خیال ہے کہ سیکیورٹی واپس لینے سے وہ خوفزدہ ہو جائیں گے، لیکن انہوں نے اس خیال کو مسترد کر دیا۔ کمال نے موجودہ انتظامیہ کے کراچی پر حکومت کرنے کے حق پر سوال اٹھایا، اور زور دے کر کہا کہ اگر ضرورت ہوئی تو وفاقی حکومت ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے شہر کا کنٹرول سنبھال سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ کسی غیر جمہوری یا غیر آئینی اقدام کی وکالت نہیں کر رہے، اور اشارہ دیا کہ وہ پیپلز پارٹی سے بھی بات کریں گے۔ ان کا اختتامی کلمات یہ تھا کہ آرٹیکل 148 کے تحت، کراچی میں نظم و ضبح بحال کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو کنٹرول سنبھال لینا چاہیے۔
