10 سال بعد جی ڈی پی کے حساب کتاب میں اہم تبدیلی
اسلام آباد: دس سال کے وقفے کے بعد حکومت نے قومی اکاؤنٹس کا بیس ایئر 2015-16 سے 2025-26 کرنے کی منظوری دے دی ہے تاکہ جی ڈی پی کی شرح نمو کے حساب کتاب میں نئے اور بند ہونے والے کاروباری اداروں کو بہتر طور پر شامل کیا جا سکے۔
منصوبے کی لاگت میں اضافہ
12 اضافی سرویز کے شامل کیے جانے کے بعد منصوبے کی لاگت 608 ملین روپے سے بڑھ کر 903.4 ملین روپے ہو گئی ہے۔ ان اضافی سرویز میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو جی ڈی پی کے تخمینوں میں شامل کرنا بھی شامل ہے۔
منصوبے کے اہم مقاصد
- جی ڈی پی، مجموعی مقررہ سرمایہ کاری (جی ایف سی ایف) اور اخراجات کے تخمینوں میں بہتری
- ڈیٹا کے دائرہ کار میں توسیع اور خالی جگہوں کو پر کرنا
- تمام معاشی شعبوں اور ذیلی شعبوں کا قومی معیشت میں حصہ کا تعین
- جی ڈی پی کے تخمینے میں استعمال ہونے والے تناسب اور مستقل نمو کی شرحوں کو اپ ڈیٹ کرنا
- قومی اکاؤنٹس کے نظام 2008 کے نفاذ کو بہتر بنانا
- ملکی شماریاتی نظام میں پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) کا تعارف
سرویز کی تعداد میں اضافہ
اصل منصوبے کے تحت 46 سرویز اور مطالعاتی جائزے کیے جانے تھے جبکہ نظر ثانی شدہ منصوبے کے تحت پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (پی بی ایس) اب 52 سرویز اور مطالعاتی جائزے کرے گا۔ وزیر اعظم کے ہدایات پر ایس ایم ایز کے سرویز کو بھی منصوبے میں شامل کیا گیا ہے۔
نئے بیس ایئر کے فوائد
نئے بیس ایئر کے متعدد فوائد ہیں جن میں معیشت پر اثر انداز ہونے والے متعلقہ تناسب کی بہتر عکاسی، شعبہ وار سرمایہ کاری کا تعین، اور پروڈیوسر پرائس انڈیکس کا تعارف شامل ہیں۔ یہ منصوبہ پورے ملک میں مطالعاتی جائزے اور سرویز کرے گا جو قومی اکاؤنٹس اور قیمتوں کے شماریات کے میدان میں تحقیق کی سرگرمیوں کو تحریک دے گا۔
شماریاتی نظام میں بہتری
یہ منصوبہ زراعت، صنعت، توانائی، تعمیرات اور خدمات کے شعبوں میں میکرو متغیرات کے تخمینے کے طریقہ کار کو بہتر بنائے گا۔ ڈیفلیٹرز اور ان پٹ آؤٹ پٹ تناسب کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا جو حکومت، کاروباری طبقے اور عوام کے لیے بہتر مائیکرو اور میکرو فیصلوں کی بنیاد فراہم کرے گا۔
