شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے، اپنی بیٹی جو اے کے ہمراہ، ان فوجیوں کے اہل خانہ کے لیے بنائے گئے نئے اپارٹمنٹس کا افتتاح کیا ہے جو روس کے ساتھ مل کر یوکرین کے خلاف جنگ میں ہلاک ہوئے تھے۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے نے پیر کو یہ معلومات جاری کیں۔
ہلاکتوں کی تصدیق اور تعمیراتی منصوبہ
مغربی اور جنوبی کوریائی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مطابق، شمالی کوریا نے یوکرین پر روس کے حملے میں ماسکو کا ساتھ دینے کے لیے ہزاروں فوجی بھیجے تھے۔ سیول کے مطابق، ان میں سے کم از کم 2,000 ہلاک ہو چکے ہیں۔ رہنما نے اتوار کو پیانگ یانگ میں واقع نئی ‘سیپیول سٹریٹ’ کے افتتاحی موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا، “اپنی موت سے پہلے، ان بہادر شہیدوں نے اپنے ذہن میں اپنے عزیزوں کو ایک خوشحال ملک میں رہتے ہوئے ضرور دیکھا ہوگا۔”
بیٹی کی موجودگی اور سیاسی پیغام
خبر رساں ادارے کی جاری کردہ تصاویر میں رہنما کو اپنی بیٹی کے ساتھ نئی رہائشوں کا دورہ کرتے دکھایا گیا ہے۔ جنوبی کوریائی انٹیلی جنس ذرائع نے گزشتہ ہفتے اشارہ دیا تھا کہ نوعمر جو اے کو واضح طور پر ‘جانشین’ کے طور پر پروموٹ کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ باپ کے ساتھ اس کی نمایاں شرکتیں ہیں۔ یہ دورہ پارٹی کانگریس سے پہلے ہوا ہے، جو اس ماہ کے آخر میں ہونے والا ہے، تاہم اس کی قطعی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
کانگریس سے قبل سیاسی چال
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سڑک کے افتتاح کا وقت پارٹی کانگریس سے پہلے فوجیوں کی تعیناتی کو جواز فراہم کرنے کے لیے ایک ‘سوچی سمجھی سیاسی چال’ ہے۔ کوریا انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل یونفیکیشن کے تجزیہ کار ہانگ من نے اے ایف پی کو بتایا، “یہ اس بات کا مظاہرہ ہے کہ ریاست لڑائی میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے خاندانوں کو ٹھوس معاوضہ فراہم کر رہی ہے… یہ ایک علامتی اظہار ہے۔”
روس کے ساتھ تعلقات کا تبادلہ
تجزیہ کاروں کے مطابق، فوجی بھیجنے کے بدلے میں، روس شمالی کوریا کو مالی امداد، فوجی ٹیکنالوجیز کے ساتھ ساتھ خوراک اور توانائی کی سپلائی بھی فراہم کر رہا ہے۔ آنے والی پارٹی کانگریس میں توقع ہے کہ کم جونگ اُن خارجہ اور داخلی پالیسی کے نئے رخ پر روشنی ڈالیں گے، اور ممکنہ طور پر جو اے کے لیے پارٹی میں رسمی عہدے کا اعلان بھی ہو سکتا ہے۔
