ڈھاکہ: بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے رہنما طارق رحمان نے منگل کے روز بنگلہ دیش کے وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھا لیا، جس کے ساتھ ہی جنوبی ایشیائی ملک میں ایک فیصلہ کن سیاسی تبدیلی کا آغاز ہو گیا۔
روایت سے ہٹ کر پارلیمنٹ کے ساؤتھ پلازہ میں حلف برداری
حلف برداری کی تقریب قومی پارلیمنٹ عمارت ‘جاتیا سنگسد بھون’ کے ساؤتھ پلازہ میں کھلے آسمان کے نیچے منعقد ہوئی، جو کہ عام طور پر صدارتی رہائش گاہ ‘بنگابھون’ میں ہوتی ہے۔ صدر محمد شہاب الدین نے طارق رحمان اور ان کے کابینہ کے اراکین کو حلف دلایا۔
دو تہائی اکثریت کے ساتھ بی این پی کی واپسی
طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی نے دو تہائی سے زائد نشستیں جیت کر تقریباً دو دہائیوں بعد اقتدار میں واپسی کی ہے۔ جماعت اسلامی، جسے 2013ء میں پابندی کے بعد پہلی بار انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ملی، نے ریکارڈ 68 نشستیں حاصل کیں۔
چیلنجز اور سیاسی سفر
60 سالہ طارق رحمان، سابق وزیراعظم خالدہ ضیا اور شہید صدر ضیاء الرحمان کے بیٹے، ایسے وقت میں اقتدار سنبھال رہے ہیں جب ملک کو سیاسی استحکام، سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی اور گارمنٹ سیکٹر سمیت اہم صنعتوں کو دوبارہ زندہ کرنے جیسے فوری چیلنجز درپیش ہیں۔
- شیخ حسینہ کی حکومت کے 2024ء میں زوال کے بعد نوابی لارڈ محمد یونس کی قیادت میں عبوری انتظامیہ نے ملک چلایا۔
- آوامی لیگ پارٹی کو الیکشن کمیشن کی جانب سے رجسٹریشن منسوخ کیے جانے کے بعد انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔
- طارق رحمان گزشتہ سال 17 سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد لندن سے واپس آئے تھے۔
امن اور قانون کی پاسداری پر زور
انتخابات کے بعد اپنے پہلے بیان میں طارق رحمان نے امن اور تحمل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، “امن، قانون اور نظم کو ہر قیمت پر برقرار رکھنا ہوگا۔” انہوں نے حامیوں سے انتقامی کارروائیوں سے گریز کرنے کی اپیل کی۔
یہ تقریب چین، بھارت اور پاکستان سمیت مدعو ممالک کے نمائندوں، سینئر سیاسی شخصیات، سفارتکاروں اور سول و فوجی اہلکاروں کی موجودگی میں مکمل ہوئی۔
