لندن میں میڈیا سے بات چیت
وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ کسی بھی قسم کے سمجھوتے یا خصوصی رعایت کی تمام اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے۔ لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی کو کسی رعایت کی پیشکش کے حوالے سے تمام گفتگو محض افواہیں ہیں۔
عمران خان کی صحت کے معاملے پر موقف
تارڑ نے پارٹی بانی عمران خان کی صحت کے حوالے سے رپورٹس کا بھی جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی بانی کی آنکھ کے مسئلے کو حساس بنا کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا، “ہماری ذمہ داری تھی کہ مناسب طبی سہولیات فراہم کریں، اور یہ کام کر دیا گیا۔ اب ان کی صحت ٹھیک ہے، جو مسئلہ تھا وہ حل ہو چکا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ طبی ماہرین نے عمران خان کا معائنہ کیا اور پارٹی رہنماؤں کو ان کی حالت سے آگاہ کیا۔ وزیر نے زور دے کر کہا کہ پی ٹی آئی کو اپنے بانی کی صحت کے معاملات کو سیاست کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔
آسٹریا کے دورے کی کامیابی
تارڑ آسٹریا میں وزیر اعظم شہباز شریف کے وفد کے ساتھ دو روزہ سرکاری دورے کے بعد برطانیہ پہنچے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے آسٹریا میں دونوں ممالک کی کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ ایک فورم کی میزبانی کی۔
ان کا کہنا تھا، “ٹیکسٹائل، کان کنی اور معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔ یہ دورہ کامیاب رہا ہے اور تجارت و سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولے گا۔” تارڑ کے مطابق، یہ دورہ پاکستان اور آسٹریا کے تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کا ردعمل
دوسری جانب، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے وزیر اطلاعات کے بیان کی تردید کی۔ اسلام آباد میں کے پی ہاؤس کے باہر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی بانی کی مطالبات پورے نہیں کیے۔
آفریدی نے کہا کہ پارٹی کے مطالبات کو غلط طور پر پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ عمران خان کی پارٹی کوئی طبی رپورٹ مانگ رہی ہے، اور اصرار کیا کہ ان کا بنیادی مطالبہ واضح ہے: پی ٹی آئی بانی کو اپنے ذاتی معالج سے مشورہ اور اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
انہوں نے کہا، “ہمارے مطالبات میں کوئی رپورٹ شامل نہیں تھی۔ ہم نے صرف یہ کہا تھا کہ انہیں اپنے ذاتی ڈاکٹر، خاندان کے ایک فرد، آنکھوں کے ماہر اور شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج کی اجازت دی جائے۔” آفریدی کا کہنا تھا کہ ان میں سے کوئی بھی مطالبہ قبول نہیں کیا گیا۔
احتجاج جاری، سیاسی کشیدگی برقرار
اسی دوران، پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی طبی حالت، خاص طور پر ان کی بینائی کے حوالے سے تشویش برقرار رہنے کے باعث ان کا دھرنا جاری رہے گا۔ سیاسی کشیدگی میں کوئی کمی نظر نہیں آ رہی۔
پی ٹی آئی کے پارلیمانی اراکین اور اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے اراکین کی قیادت میں یہ احتجاج منگل کو پانچویں روز میں داخل ہو گیا۔
