وزیر داخلہ کا الزام: طبی ٹیم مطمئن تھی، سیاسی مقاصد کے لیے معاملہ اٹھایا گیا
اسلام آباد: وزیر داخلہ محسن نقیبی نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان کی ’سیاسی چالوں‘ کی وجہ سے سابق وزیر اعظم کی آنکھوں کے طبی معائنے میں تین دن کی تاخیر ہوئی۔
نقیبی نے منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ راولپنڈی کی عدالہ جیل میں عمران خان کے معائنے کے بعد ڈاکٹروں، پی ٹی آئی رہنماؤں اور خان کے ذاتی طبی ٹیم کے درمیان ہونے والی میٹنگ میں تمام فریق طبی ترقی سے مطمئن تھے۔
’ڈاکٹر بھی مطمئن، رہنما بھی‘
انہوں نے دعویٰ کیا، ’’ان کے (عمران خان کے) ڈاکٹروں نے کہا ’بہترین! اگر ہم علاج کرتے تو یہی کرتے۔‘ سیاسی رہنماؤں نے کہا ’ہم مطمئن ہیں اور اپنے لوگوں کو بتائیں گے۔‘‘‘
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے طبی ٹیم سے پوچھا کہ کیا وہ مزید ٹیسٹ کروانا چاہتے ہیں، جس پر ان کا جواب تھا کہ تمام ممکنہ ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔
علیمہ خان پر براہ راست الزام
نقیبی نے واضح طور پر کہا، ’’لیکن میں آپ کو صرف اتنا بتا سکتا ہوں کہ علیمہ خان صاحبہ نے اپنی پارٹی سے کہا کہ اگر ہم اسے قبول کر لیں گے تو معاملہ ختم ہو جائے گا۔ ان کی وجہ سے تین دن تک طبی معائنہ نہیں ہو سکا۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا، ’’ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ ہم بہت قریب ہیں، دوسری طرف انہوں نے اس معاملے کو مکمل طور پر سیاسی بنا دیا۔‘‘
سپریم کورٹ رپورٹ اور احتجاجی ماحول
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سپریم کورٹ میں پیش کی گئی ایک طبی رپورٹ میں تصدیق کی گئی تھی کہ سابق وزیر اعظم کو آنکھ کی ایک سنگین بیماری ’سنٹرل ریٹینل وین اکلوزن (سی آر وی او)‘ لاحق ہے۔
یہ بیماری عام طور پر بزرگ عمر اور دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس جیسے امراض سے منسلک ہے۔ رپورٹ کے مطابق، عمران خان نے اپنی دائیں آنکھ کی تقریباً 85 فیصد بینائی کھونے کی شکایت کی تھی۔
پانچویں دن بھی جاری ہے احتجاج
رپورٹ کے بعد پی ٹی آئی اور خان کے خاندان کے اراکین نے ان کی صحت کو لے کر خطرے کی گھنٹی بجائی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ انہیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا جائے۔
پی ٹی آئی اور اپوزیشن کے اتحادی پارلیمنٹ کے باہر اور ملک بھر میں عمران خان کی طبی حالت کے خلاف دھرنا دے رہے ہیں، جو اب پانچویں دن داخل ہو چکا ہے۔ احتجاجیوں کا مطالبہ ہے کہ خان کو ان کے ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی دی جائے۔
وزیر داخلہ نے اس موقع پر زور دیا کہ حکومت سابق وزیر اعظم کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کر رہی ہے اور تمام معاملات شفافیت کے ساتھ نمٹائے جا رہے ہیں۔
