قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بڑی اصلاحات دو ماہ کے اندر متعارف کرائی جائیں گی، جس کے تحت موجودہ فائل سسٹم کو ختم کر دیا جائے گا۔ ان اصلاحات کا مقصد ریگولیٹری طریقہ کار میں بنیادی تبدیلی لانا ہے۔
فائل سسٹم کا خاتمہ اور ڈویلپرز کی ذمہ داری
>میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں نیب چیئرمین نے کہا کہ “یہ اصلاحات وفاقی کابینہ سے منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی۔” انہوں نے وضاحت کی کہ مجوزہ تبدیلیوں کے تحت رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز مکمل ذمہ داری کے حامل ہوں گے۔ اس اقدام سے شفافیت بڑھنے اور عوام کو تحفظ ملنے کی امید ہے۔
پارلیمنٹیرینز کے خلاف مقدمات جاری
نیب چیف نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کے خلاف مقدمات اب بھی جاری ہیں، تاہم بیورو اب ایسے معاملات پر پریس ریلیز جاری نہیں کرتا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نیب نے کئی مقدمات وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور انسداد بدعنوانی کے محکموں کو بھیجے ہیں۔
ملزمان کے ساتھ احترام اور ماضی کی پالیسیوں سے اختلاف
لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد نے زور دیا کہ ملزمان کو بھی وہی احترام ملنا چاہیے جو تفتیش کاروں کو حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ “موجودہ نیب اس بات سے متفق نہیں ہے جو نیب نے ماضی میں کیا۔” یہ بیان نیب کے کردار میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ پر تنقید
نیب چیئرمین نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی پاکستان کے بارے میں تشخیصی رپورٹ کو “مکمل طور پر بے بنیاد” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کسی بھی ملک کو “کلین چٹ” نہیں دیتا۔ گزشتہ سال آئی ایم ایف کی گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک اسسمنٹ (GCDA) رپورٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ مسلسل بدعنوانی اور کمزور ادارے معاشی ترقی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ساکھ پر سوال
لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ “800 افراد کے سروے سے پورے ملک کا سروے کیسے کیا جا سکتا ہے؟” انہوں نے اس تنظیم کے فنڈنگ کے ذرائع اور سروے کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے۔
نیب کی کارکردگی اور وصولیاں
نیب چیف نے بیورو کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین ماہ میں نیب کی وصولیاں عالمی سطح پر بے مثال ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام وصول شدہ رقوم وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع کرائی گئی ہیں، اور بیورو نے کوئی رقم اپنے پاس نہیں رکھی۔
