اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں کم ہونے کے بعد عوام کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی لانے کاعلان کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ عوام کا ایک ایک پیسہ واپس کریں گے اور آج یہ وعدہ پورا ہونے جا رہا ہے
جمعہ کو قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئ وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے بعد تیل کی ترسیل کی صورتحال بہتر ہوئی ہے جس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنی معاشی ٹیم کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان وزراء نے تیل کے بحران کو سنبھالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ہفتہ وار جائزے کے بعد کمی کا اعلان آج رات متوقع
وزیراعظم نے ایوان کو بتایا کہ حکومت آج رات ہفتہ وار جائزے کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا باضابطہ اعلان کرے گی۔ گزشتہ ہفتے حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اور ڈیزل میں 2 روپے فی لیٹر کی کمی کی تھی۔
انہوں نے یاد دلایا کہ جب تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں تو مرکز نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے 128 ارب روپے کے خطیر سبسڈی پیکج کا استعمال کیا تھا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر وزرائے اعلیٰ کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ٹارگٹڈ سبسڈیز کے ذریعے عوامی ریلیف میں وفاق کا ساتھ دیا۔
آبنائے ہرمز کی بحالی اور عالمی اثرات
یاد رہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والے امریکہ اسرائیل اور ایران کے تنازعے کے دوران پٹرول کی قیمت 258.17 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 458.41 روپے فی لیٹر کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی۔ ڈیزل 275.7 روپے سے بڑھ کر 520.35 روپے فی لیٹر تک جا پہنچا تھا۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا تھا کیونکہ دنیا کا پانچواں حصہ تیل اور گیس اسی راستے سے گزرتا ہے۔
>پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے امن معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل بردار بحری جہازوں کی آمدورفت بحال ہو گئی ہے جس سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تین ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں۔
قومی اسمبلی میں پاکستان کے کردار پر متفقہ قرارداد منظور
ادھر قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان دشمنی کے خاتمے اور امن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایک تاریخی قرارداد منظور کی ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی پیش کردہ اس قرارداد میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ایک قابل اعتماد غیر جانبدار ثالث کے طور پر سراہا گیا۔
قرارداد میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور مذاکراتی ٹیم کی انتھک کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ ایوان نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ پاکستان کی کوششوں سے خطے میں امن اور عالمی توانائی کی سلامتی کو لاحق خطرات کم ہوئے ہیں۔
قرارداد میں کہا گیا کہ اس تنازعے نے نہ صرف خطے کے امن و استحکام بلکہ عالمی معاشی استحکام اور توانائی کی سلامتی کو بھی بری طرح متاثر کیاھا۔ پاکستان کی ثالثی نے عالمی برادری میں ملک کا قد بڑھایا ہے۔
مہنگائی کے خلاف ریلیف
ماہرین کے مطابق پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا سب سے زیادہ مثبت اثر متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے بجٹ پر پڑے گا۔ پٹرول بنیادی طور پر چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت کو مہنگائی کا سب سے بڑا محرک سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ بھاری ٹرانسپورٹ، ٹرکوں، بسوں، ٹرینوں اور زرعی مشینری میں استعمال ہوتا ہے۔
حکومت نے جنگ کے آغاز کے بعد سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ہفتہ وار جائز لینے کا سلسلہ شروع کیا تھا، اس سے قبل یہ جائزہ پندرہ روزہ بنیادوں پر ہوتا تھا۔
