کراچی: وزیراعلیٰ سندھ کی انسپکشن ٹیم کی ایک حالیہ رپورٹ نے کراچی کے اہم منصوبے یلو لائن بی آر ٹی میں 8 ارب روپے سے زائد کی سنگین مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا ہے۔ رپورٹ میں اس معاملے کو بدانتظامی کی ایک کلاسک مثال قرار دیتے ہوئے ذمہ دار افسران کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، “کنٹریکٹ مینجمنٹ، ٹیکس کی کٹوتی اور سرکاری خزانے میں جمع کرانے، اور نظم و ضبط پر عملدرآمد کے انتظامی پروٹوکول کی بار بار خلاف ورزی کی گئی۔” یہ انکوائری عالمی بینک کے مالی تعاون سے جاری کراچی موبلٹی پروجیکٹ (کے ایم پی) میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے خلاف شروع کی گئی تھی۔ یلو لائن بی آر ٹی کوئٹہ آباد کے داؤد چورنگی سے نمائش تک بسوں کی تیز رفتار آمدورفت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
پیشگی ادائیگیوں کا انکشاف
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منصوبے میں نئے جام صادق پل، ڈپو-1 برائے داؤد چورنگی اور ڈپو-2 برائے انڈس ہسپتال کی تعمیر شامل ہے۔ اس دوران اس وقت کے کے ایم پی پراجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی اور ڈائریکٹر جھمن داس نے تمام قائم شدہ چیک اینڈ بیلنس کو نظرانداز کرتے ہوئے ٹھیکیداروں کو براہ راست چیک اور ادائیگیاں جاری کیں۔
رپورٹ میں شامل ایک جدول کے مطابق، ڈپو-1 کے لیے 885 ملین، ڈپو-2 کے لیے 2 ارب، اور جام صادق پل کے لیے 5.682 ارب روپے کی پیشگی ادائیگیاں کی گئیں، جس سے کل رقم 8.567 ارب روپے بنتی ہے۔پورٹ میں کہا گیا کہ یہ پیشگی ادائیگیاں قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئیں جس سے ٹھیکیداروں کو غیر قانونی فائدہ پہنچا اور یلو لائن منصوبے اور عالمی بینک کے معاہدے کو بھی خطرات سے دوچار کیا گیا۔
منصوبے کی پیش رفت بری طرح متاثر
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جام صادق پل کی کل لاگت 12.53 ارب، ڈپو-1 کی 2.64 ارب اور ڈپو-2 کی 16.96 ارب روپے ہے۔ اپریل 2026 تک جسمانی پیش رفت کے اعداد و شمار تشویشناک ہیں: جام صادق پل پر 55.17 فیصد، ڈپو-1 پر صرف 10 فیصد اور ڈپو-2 پر 35.62 فیصد کام مکمل ہو سکا ہے۔
انسپکشن ٹیم نے اپنی رپورٹ میں انتظامیہ کے طرز عمل کو “شرم ناک انتظامیہ” قرار دیتے ہوئے لکھا کہ یہ معاملہ متعلقہ ای اینڈ ڈی اور بدعنوانی کے قوانین کے تحت کارروائی کا متقاضی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یہ رویہ “سول سروس کے لیے نااہلی” کو ظاہر کرتا ہے اور متعلقہ افسر “مستقبل میں کسی بھی ذمہ داری یا اعتماد کے عہدے کا حقدار نہیں”۔
اینٹی کرپشن نے ایف آئی آر درج کر لی
رپورٹ میں محکمہ ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ کو “منصوبے کو بچانے” کے لیے انتظامی اور اصلاحی اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔ ساتھ ہی، انتظامیہ کے خلاف مجرمانہ تحقیقات بھی سفارش کی گئی، جس کے بعد محکمہ اینٹی کرپشن نے فوری طور پر ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قصورواروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
