وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی کمی کے باوجود عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ کم نہیں ہوا۔ پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی موجودہ قیمتوں میں اب بھی 29 فیصد ٹیکس شامل ہے، جس میں پیٹرولیم لیوی سب سے بڑا جزو ہے۔
حکومت نے ہفتہ کو پٹرول کی قیمت میں 74.28 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 67.31 روپے فی لیٹر کی نمایاں کمی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد پٹرول 299.50 روپے اور ڈیزل 311.47 روپے فی لیٹر کی نئی سطح پر آ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 88. روپے ٹیکس شامل ہے۔ یہ ٹیکس مختلف مدات پر مشتمل ہے:
- کسٹم ڈیوٹی: 19.32 روپے فی لیٹر
- پیٹرولیم لیوی: 66.25 روپے فی لیٹر
- کلائمیٹ سپورٹ لیوی: 2.50 روپے فی لیٹر
ڈیزل پر ٹیکسوں کا بوجھ
ذرائع نے بتایا کہ ڈیزل کی قیمت میں بھی 29 فیصد ٹیکس شامل، جس کی کل مالیت 91.15 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔ اس کی تقسیم درج ذیل ہے:
- کسم ڈیوٹی: 15.68 روپے فی لیٹر
- پیٹرولیم لیوی: 72.97 روپے فی لیٹر
- کلائمیٹ سپورٹ لیوی: 2.50 روپے فی لیٹر
یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے عبوری امن معاہدے کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کو اپنا وعدہ پورا کرنے سے تعبیر کیا تھا۔
عالمی بحران اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤh2>
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ تنازعے کے آغاز کے وقت پٹرول کی قیمت 258.17 روپے فی لیٹر تھی جو بڑھ کر 458.41 روپے فی لیٹر کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی۔ اسی طرح ڈیزل 275.7 روپے سے بڑھ کر 520.35 روپے فی لیٹر تک جا پہنچا تھا۔
حکومت نے تنازعے کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ہفتہ وار جائزہ لینے کا سلسلہ شروع کیا تھا، جبکہ اس سے قبل یہ جائزہ پندرہ روزہ بنیادوں پر کیا جاتا تھا۔
