ENGLISH_SL: ipp-joins-ppp-alliance-gilgit-baltistan
گلگت: استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) نے گلگت بلتستان میں مخلوط حکومت کی تشکیل کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ساتھ اتحاد کر لیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے گلگت میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اس شراکت داری کا باضابطہ اعلان کیا۔
یہ اعلان پیپلز پارٹی کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اقتدار کی تقسیم کے فارمولے پر رضامندی کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔
علاقے کی ترقی کے لیے مثبت پیش رفت
آئی پی پی کے صوبائی صدر حاجی گل بار خان نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ “ہم پیپلز پارٹی کی قیادت والے اتحاد میں شامل ہوں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اتحاد سے متعلق دیگر معاملات کا فیصلہ جماعتوں کی مرکزی قیادت کرے گی۔
پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین نے پی پی پی، مسلم لیگ (ن) اور آئی پی پی کے اس اتحاد کو ایک “مثبت پیش رفت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطے کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ حکومت سازی کا باقاعدہ عمل پیر سے شروع ہو جائے گا۔
انتخابی نتائج اور سیاسی منظرنامہ
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں کے لیے 7 جون کو عام انتخابات ہوئے تھے، جن میں پیپلز پارٹی 9 نشستیں جیت کر سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، مسلم لیگ (ن) نے 21 میں سے 6 حلقوں میں کامیابی حاصل کی۔
اگرچہ آئی پی پی انتخابات میں کوئی نشست حاصل نہیں کر سکی، تاہم 16 جون کو چار آزاد امیدواروں نے وفاقی وزیر مواصلات اور آئی پی پی کے صدر عبدالعلیم خان سے ملاقات کے بعد پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔
اس سے قبل پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کے سات طے پانے والے فارمولے کے تحت چیف منسٹر کا عہدہ پیپلز پارٹی اور گورنر کا منصب مسلم لیگ (ن) کے پاس رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔ بیان میں بتایا گیا کہ اپوزیشن لیڈر اور ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ بھی مسلم لیگ (ن) کے پاس ہوگا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق مجلس وحدت مسلمین نے ایک اور ایک آزاد امیدوار نے بھی ایک نشست جیتی ہے، جبکہ تین حلقوں کے نتائج کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
