پیرس، فرانس: فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نونیز نے منگل کے روز قومی اسمبلی میں ایک افسوسناک خبر کا اعلان کیا۔ بورڈو کے قریب میرینیاک میں ایک عمارت میں لگنے والی خوفناک آگ سے نمٹنے کے دوران دو فائر فائٹرز اپنی جان کی بازی ہار گئے۔
وزیر نونیز نے ارکان پارلیمنٹ کو بتایا کہ یہ المناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب فائر بریگیڈ کا عملہ گھنے دیودار کے جنگل میں پھیلتی ہوئی آگ کی “انتہائی پرتشدد حرکیات” کا مقابلہ کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا، “مجھے ابھی ابھی جیروند کی پریفیکٹ سے معلوم ہوا ہے کہ میرینیاک میں آگ بجھاتے ہوئے دو فائر فائٹرز شہید ہو گئےیں۔”
بعد ازاں صدر ایمانوئل میکرون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے ایک بیان میں قوم کی طرف سے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا، “میں ان کے اہل خانہ، ان کے عزیزوں اور فرانس کے تمام فائر فائٹرز سے قوم کی تعزیت، تشکر اور حمایت کا اظہار کرتا ہوں۔”
جیروند کی فائر اینڈ ریسکیو سروس کے ڈائریکٹر مارک ورمیولن نے شام کے وقت پریس کو واقعے کی تفصیلات فراہم کیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہید ہونے والے دونوں اہلکار پانی کے ایک بڑے ٹینکر پر سوار تھے جو آگ کے “پھندے” میں پھنس گیا۔ یہ جان لیوا حادثہ دوپہر کے وقت آگ پر قابو پانے کی کارروائی کے “ابتدائی چند منٹوں” کے دوران پیش آیا۔
ورمیولن نے سینٹ-ژاں-دِیلاک کی بیرک میں صحافیوں کو بتایا، “دوپہر 2:30 بجے کے قریب جب امدادی ٹیمیں پہنچیں، آگ درختوں کی چوٹیوں تک پھیل رہی تھی۔ ہوا کے رخ بدلنے کی وجہ سے صورتحال انتہائی نامساعد تھی، جس میں 20 سے 30 میٹر بلند شعلے دیکھے گئے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس گھنے جنگل میں آگ نے متعدد حساس مقامات کو خطرے میں ڈال دیا تھا، جن میں فیکٹریاں، رہائشی علاقے اور براہ راست بورڈو کا ہوائی اڈہ بھی شامل تھا۔
ہوائی ٹریفک میں خلل اور تحقیقات کا آغاز
اس خوفناک آگ کے باعث بورڈو ہوائی اڈے کی پروازوں کا شیڈول بری طرح متاثر ہوا، تاہم شام تک ٹریفک معمول پر آ گئی۔ بورڈو کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ آگ لگنے کی اصل وجوہات اور شہادت کے درست حالات کا تعین کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق اب آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔
یہ واقعہ فرانس میں رواں موسم گرما کے دوران جنگلات کی آگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کی عکاسی کرتا ہے۔ محکمہ موسمیات نے منگل کو جیروند کے لیے اورنج الرٹ جاری کر رکھا تھا، جبکہ پریفیکچر نے جنگلاتی علاقوں میں سخت پابندیاں نافذ کرتے ہوئے ریڈ وارننگ نافذ کر دی تھی۔
یہ رواں ماہ فائر فائٹرز کی دوسری ہلاکت ہے۔ 8 جولائی کو، البرٹ وِل کا ایک 22 سالہ رضاکار فائر فائٹر ساووئی میں پودوں کی آگ بجھاتے ہوئے چٹان کا ایک بڑا ٹکڑا گرنے سے شہید ہو گیا تھا۔
فرانس میں اس وقت تقریباً 250,000 فائر فائٹرز خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں200,900 رضاکار، 44,300 پیشہ ور اور 13,370 فوجی اہلکار شامل ہیں۔
