ورزش کے بعد وہی شیکر، ناشتے میں پروٹین سے بھرپور دہی، شام کے وقت پروٹین بارز — اگر آپ کو لگتا ہے کہ حالیہ عرصے میں ہر طرف سے آپ کو زیادہ پروٹین کھانے کی ترغیب دی جا رہی ہے تو آپ غلط نہیں ہیں۔ انتہائی پروٹین والی غذائیں فوڈ انڈسٹری کے لیے ایک منافع بخش مارکیٹنگ ہتھیار بن چکی ہیں۔
این جی او فوڈ واچ کی جانب سے منگل 22 ستمبر کو شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، پروٹین سے بھرپور ان مصنوعات کی انتہائی پروسیسڈ نوعیت کے علاوہ، یہ رجحان کئی سوالات بھی جنم دے رہا ہے۔ اگر پروٹین ہمارے پٹھوں کو مضبوط بنانے، ورزش کے بعد بحالی اور بھوک کو قابو میں رکھنے میں مدد کرتی ہیں، تو کیا ہم حد سے تجاوز کر رہے ہیں؟
پروٹین: جسم کے لیے بنیادی ضرورت
کاربوہائیڈریٹس اور چکنائی کے ساتھ پروٹین بھی ان تین اہم میکرونیوٹرینٹس میں شامل ہیں جو ہماری صحت کے لیے ناگزیر ہیں۔ یہ 20 امینو ایسڈز کی زنجیروں پر مشتمل ہوتی ہیں، جن میں سے 9 ایسے ہیں جو ہمارا جسم خود تیار نہیں کر سکتا اور یہ خوراک سے حاصل کرنے پڑتے ہیں۔
پروٹین کو عام طور پر صرف پٹھوں کی نشوونما سے جوڑا جاتا ہے، لیکن یہ تصور بہت محدود ہے۔ فرانسیسی ادارے ANSES کے مطابق، پروٹین نہ صرف پٹھوں کی تجدید میں مدد کرتی ہیں بلکہ جلد، ہڈیوں، بالوں اور ناخنوں کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
یہ ہمارے مدافعتی نظام، پھیپھڑوں سے اعضاء تک آکسیجن کی ترسیل اور ہارمونز کی پیداوار جیسے اہم حیاتیاتی عمل میں بھی حصہ لیتی ہیں۔
پروٹین کے ذرائع میں تنوع ضروری
اسی لیے ضروری ہے کہ پروٹین سے بھرپور غذاؤں کو ترجیح دی جائے — چاہے وہ جانوروں سے حاصل ہوں (گوشت، مچھلی، انڈے، دودھ اور دودھ سے بنی مصنوعات) یا پودوں سے (اناج، دالیں جیسے چنے، مسور، پھلیاں اور خشک میوے جیسے مونگ پھلی اور بادام)۔
تاہم، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جانوروں اور پودوں سے حاصل ہونے والی پروٹین بالکل یکساں نہیں ہوتیں۔ جانوروں سے حاصل ہونے والی پروٹین میں تمام امینو ایسڈز موجود ہوتے ہیں، جبکہ پودوں سے حاصل ہونے والی پروٹین میں ضروری امینو ایسڈز کی کمی ہو سکتی ہے۔
اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ پودوں اور جانوروں دونوں ذرائع سے پروٹین حاصل کی جائے۔ سبزی خور افراد کے لیے بھی یہ کوئی مسئلہ نہیں — ایک ہی کھانے میں اناج اور دالیں ملا کر کھائیں، جیسے چنے اور سوجی یا دال اور چاول، تو تمام ضروری امینو ایسڈز حاصل ہو جاتے ہیں۔
روزانہ کتنی پروٹین درکار ہے؟
2007 سے، فرانسیسی فوڈ ایجنسی نے صحت مند بالغ افراد کے لیے پروٹین کی غذائی ضرورت 0.83 سے 1 گرام فی کلوگرام روزانہ مقرر کی ہے۔ مثال کے طور پر، 65 کلوگرام وزنی ایک غیر متحرک خاتون کو روزانہ 54 سے 60 گرام پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ 80 کلوگرام وزنی مرد کو 66 سے 80 گرام روزانہ۔
لیکن یہ سفارشات حالات کے مطابق تبدیل ہو سکتی ہیں — بچوں، حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین، بزرگ افراد اور زیادہ متحرک افراد کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں۔ کھلاڑیوں کو عام افراد سے زیادہ پروٹین درکار ہوتی ہے، جو عموماً 1.2 سے 2.2 گرام فی کلوگرام روزانہ ہوتی ہے۔
زیادتی کے خطرات
لیکن صرف ورزش کرنے یا پٹھے بڑھانے کی خواہش کی بنیاد پر ضرورت سے زیادہ پروٹین کھانا درست نہیں۔ ماہر غذائیت جولین توڈیسچینی کے مطابق، حد سے زیادہ پروٹین والی غذائیں بے کار ہیں۔ ایک خاص حد کے بعد جسم پروٹین جذب نہیں کر پاتا اور اسے پیشاب اور فضلے کے ذریعے خارج کر دیتا ہے۔
پروٹین شیکرز کے بارے میں بھی یہی بات لاگو ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ کھلاڑیوں کے لیے مفید ہو سکتے ہیں، لیکن بغیر ورزش کے ان کا زیادہ استعمال بے معنی ہے۔ ماہر غذائیت وایلیٹ ڈووال کا کہنا ہے کہ جو شخص ٹھوس غذا سے کافی پروٹین حاصل کر رہا ہے، اسے پاؤڈر پروٹین کی کوئی ضرورت نہیں۔
زیادہ پروٹین کی علامات
- بدہضمی، پیٹ پھولنا اور قبض
- مسلسل پانی کی کمی
- منہ کی بدبو
- ہارمونل عدم توازن
- وزن میں اضافہ
مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ زیادہ پروٹین دل اور خون کی شریانوں کی صحت پر بھی منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔ پٹسبرگ یونیورسٹی کی 2024 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، 20 فیصد اضافی پروٹین والی غذا شریانوں میں تختیاں جمع ہونے کا باعث بنتی ہے، جو خون کی گردش کو کم کرتی ہے اور دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بڑھاتی ہے۔
گردوں پر اثرات کے بارے میں، یہ حقیقی ہے لیکن صحت مند افراد میں محدود ہے۔ حالیہ تحقیقات کے مطابق، وہ افراد جو پہلے سے گردوں کی دائمی بیماری میں مبتلا ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
پروٹین کو صحت کا دوست بنائے رکھنے کے لیے ماہرین کی سفارشات پر عمل کریں: پروٹین کے ذرائع میں تنوع رکھیں، اس کا استعمال پورے دن میں تقسیم کریں اور روزانہ کی تجویز کردہ مقدار سے تجاوز نہ کریں۔
