پیرس میں پوپ لیو چہاردہم کی آئندہ ہفتے متوقع آمد کے سبب نوٹرے ڈیم کے بالکل قریب واقع تاریخی ہوٹل ڈیو ہسپتال کی معمول کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہونے جا رہی ہیں، جس پر ٹریڈ یونین سی جی ٹی نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
پیرس کا مرکز ‘تقریباً ناقابلِ رسائی’ علاقہ بن جائے گا
اطلاعات کے مطابق پوپ لیو چہاردہم جمعہ 25 ستمبر کو شام سوا پانچ بجے نوٹرے ڈیم پہنچیں گے جہاں وہ مذہبی پیشواؤں کی موجودگی میں نماز ادا کریں گے۔ اس کے بعد وہ گرجا گھر کے صحن میں تشریف لائیں گے، جہاں عین ہوٹل ڈیو ہسپتال موجود ہے۔ اس دورے کے دوران سیکیورٹی فورسز کی بھاری تعیناتی اور ٹریفک کی مکمل رکاوٹ کے پیش نظر شہر کے مرکز میں واقع سیٹی آئی لینڈ کو ایک ‘مہر بند بلبلے’ میں تبدیل کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ دریائے سین پر بھی کشتیوں کی آمدورفت ممنوع قرار دی گئی ہے۔
ہسپتال میں صرف ہنگامی خدمات جاری رہیں گی
انہی پابندیوں کے پیش نظر ہوٹل ڈیو ہسپتال نے جمعہ کے روز محدود آپریشن کا فیصلہ کیا ہے۔ اسسٹنس پبلک – ہاپیتو دی پاریس (اے پی ایچ پی) کے مطابق ہسپتال میں صرف غیر طے شدہ سرگرمیاں جیسے ایمرجنسی، ایس ایم یو آر اور نفسیاتی امراض کے داخلے کے شعبے فعال رہیں گے، جبکہ باقی تمام طے شدہ طبی معائنے اور علاج معالجے کی کارروائیاں مؤخر کر دی جائیں گی۔
سی جی ٹی کا پوپ کو براہِ راست خط
سی جی ٹی کے رکن اسدین ایسیو نے اس صورتحال کو ‘ناقابلِ قبول’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوپ کی سیکیورٹی کے بہانے ان مریضوں کی اپائنٹمنٹس منسوخ کی جا رہی ہیں جو کئی ماہ سے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ ہسپتال کی سی جی ٹی جنرل سیکرٹری کیرول ماتوشچاک نے خبردار کیا کہ متعدد مریض ایم آر آئی یا سی ٹی اسکین کے لیے آ رہے ہیں جن کا تعلق سنگین امراض سے ہے۔
یونین نے اس معاملے پر 10 ستمبر کو خود پوپ کو ایک خط بھی لکھا جس میں کہا گیا کہ دورے کے انتظامات اور سیکیورٹی کی ضروریات کو سمجھا جا سکتا ہے، لیکن اس کی قیمت کمزور مریضوں کو نہیں چکانی چاہیے جن کے لیے سرکاری ہسپتال ہی واحد سہارا ہوتا ہے۔ خط میں پوپ سے درخواست کی گئی کہ وہ منتظمین کو ہدایت دیں کہ مریضوں کے معائنوں اور علاج کے تسلسل کو یقینی بنایا جائے۔
ایمرجنسی مریضوں کی دوسرے ہسپتالوں میں منتقلی کا خدشہ
سی جی ٹی کے نمائندے نے یہ بھی متنبہ کیا کہ اگرچہ ایمرجنسی سروسز بحال رہیں گی، لیکن انہیں بنیادی طور پر دوسرے ہسپتالوں کی طرف موڑ دیا جائے گا، جس سے مریضوں کے بچنے کے امکانات کم ہو جائیں گے۔ انہوں نے دلیل دی کہ فالج کے معاملے میں جتنی جلدی علاج ملے گا، اتنی ہی جان بچنے کی امید ہوتی ہے۔ یونین نے اس بات پر بھی ناراضی ظاہر کی کہ عملے کو جمعہ کے روز چھٹی یا آر ٹی ٹی لینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
اے پی ایچ پی کا مؤقف
دوسری جانب اے پی ایچ پی کا کہنا ہے کہ متاثرہ مریضوں کو اطلاع دے دی گئی ہے اور انہیں نئی تاریخوں کی پیشکش کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق یہ غیر معمولی انتظامات سائٹ تک رسائی کی شدید پابندیوں کے تناظر میں طبی سہولیات کے تسلسل اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں، اور اس سے قبل اولمپک گیمز اور نوٹرے ڈیم کی بحالی کے موقع پر بھی ہسپتال نے اسی طرح محدود آپریشن کیا تھا۔
