فرانس کے شہر سینٹ مالو اور اس کے گرد و نواح میں پانی کی شدید قلت کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ بیوفورٹ ڈیم، جو تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار گھرانوں کو پانی فراہم کرتا ہے، اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اگر آنے والے ہفتوں میں مناسب بارش نہ ہوئی تو نومبر کے آخر تک پانی کی فراہمی معطل ہو سکتی ہے۔
ڈیم کی سطح خطرناک حد تک کم
سینٹ مالو پانی کی فراہمی کے نظام کے ڈائریکٹر فرانک اولیویئر ہنری کے مطابق، اس وقت ڈیم میں پانی کا ذخیرہ ایک تہائی سے بھی کم رہ گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عام حالات میں سال کے اس حصے میں ڈیم میں تقریباً پچاس سینٹی میٹر پانی موجود ہونا چاہیے، لیکن اب صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر اگلے چند مہینوں میں خاطر خواہ بارش نہ ہوئی تو نومبر کے اختتام تک پانی کی قلت واقعی میں شدت اختیار کر لے گی۔ یہ صورت حال برٹنی کے علاقے میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہروں اور تاریخی خشک سالی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔
شہریوں میں پانی بچانے کی مہم
سینٹ مالو کے آس پاس کے تمام قصبوں میں پانی بچانے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔ مقامی باشندوں کو موبائل فون پیغامات کے ذریعے بھی پانی کی بچت کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ کئی شہریوں نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اپنی پانی کی کھپت میں نمایاں کمی کی ہے۔
- ایک مقامی باشندہ لارنس نے خصوصی نظام کے ذریعے اپنی پانی کی کھپت چوتھائی تک کم کر لی ہے
- مقامی حکام نے پانی کی بچت کے لیے جدید آلات اور بہتر نظام کی تنصیب کو یقینی بنایا ہے
- سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ سے پانی کی دوبارہ استعمال کی منصوبہ بندی شروع کر دی گئی ہے
سیاحت سے صورتحال مزید خراب
برٹنی کا علاقہ پانی کی کمی کا عادی نہیں ہے، لیکن سیاحت اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ سینٹ مالو میں گرمیوں کے دوران پانی کی کھپت میں پچیس فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایک مقامی ریستوران کے منیجر رومین پیٹیٹ کے مطابق، مصروف دنوں میں پانی کی بچت کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ برتنوں اور گلاسوں کی صفائی کے لیے بھاری مقدار میں پانی درکار ہوتا ہے۔
حکام کی کوششیں اور مستقبل کے چیلنجز
سینٹ مالو ایگلومیریشن کے پانی کے امور کے ذمہ دار منتخب نمائندے ژاں فرانسس ریشو نے بتایا کہ حکام نے جدید ساز و سامان، بہتر پائپ لائن نیٹ ورک اور نئے پلانٹس کی تنصیب جیسے اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سال بھر میں پانی کی دستیابی بڑھانے کے لیے کوششیں جاری ہیں، لیکن اگر صارفین احتیاط نہیں کریں گے تو صورتحال قابو میں رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق، آنے والے ہفتوں میں خاطر خواہ بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس صورت حال میں پانی کی فراہمی میں وقفے یا راشننگ ناگزیر ہو سکتی ہے، جس سے ایک لاکھ چالیس ہزار گھرانوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہو گی۔
