پیرس کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے انکشاف کیا ہے کہ خواتین کی رضامندی کے بغیر اسمارٹ گلاسز کے ذریعے ان کی ویڈیو بنانے اور اسے آن لائن نشر کرنے کے معاملے پر متعدد تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوشل میڈیا پر اس قسم کے مواد میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
کیا ہے معاملہ؟
پراسیکیوٹر کے مطابق، سوشل میڈیا پر یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے جس میں کیمرے سے لیس اسمارٹ گلاسز پہن کر خواتین کو سڑکوں پر ان کی اجازت کے بغیر فلمایا جاتا ہے اور پھر یہ ویڈیوز آن لائن جاری کر دی جاتی ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب کئی متاثرہ خواتین نے قانونی شکایات دائر کیں۔
ڈیجیٹل تشدد کا شکار افراد کے لیے قومی ہیلپ لائن 3018 چلانے والی تنظیم ای-انفانس نے 8 ستمبر کو اس بڑھتے ہوئے رجحان پر خبردار کیا تھا، جس میں اسمارٹ گلاسز کے ذریعے توہین آمیز ویڈیوز بنانے اور انہیں آن لائن پھیلانے کی نشاندہی کی گئی تھی۔
قانونی دفعات اور سزائیں
پراسیکیوٹر کے دفتر نے بتایا کہ یہ مقدمات “آن لائن عوامی مواصلاتی سروس کے ذریعے کسی شخص کی تصویر یا آواز کو اس کی رضامندی کے بغیر پیش کرنے والے مواد کی تشہیر” کے تحت درج کیے گئے ہیں۔ اس جرم کی سزا دو سال قید اور 45,000 یورو جرمانہ ہے۔
- خفیہ فلم بندی اور اس کی آن لائن تشہیر پر دو سال قید اور 45,000 یورو جرمانے کی سزا
- بعض مقدمات میں ناجائز جنسی حرکات کی صورت میں “جنسی زیادتی” کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں
- متاثرہ خواتین کی شکایات پر متعدد الگ الگ تحقیقات جاری ہیں
میٹا کا مؤقف
ان اسمارٹ گلاسز بنانے والی امریکی کمپنی میٹا نے واضح کیا ہے کہ اس نے صارفین کو خفیہ طور پر لوگوں کی فلم بندی سے روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ کمپنی کے ترجمان کے مطابق، “ہر جوڑے میں ایک LED لائٹ نصب ہے جو فلم بندی یا تصویر لیتے وقت مسلسل جھلملاتی رہتی ہے اور اسے بند نہیں کیا جا سکتا۔”
یہ معاملہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور ذاتی رازداری کے تحفظ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں قانونی نظام کو نئی چیلنجز کا سامنا ہے۔
