اسلام آباد میں اپوزیشن رہنماؤں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں متوقع لانگ مارچ کی تیاریوں اور صوبہ خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر اور مصطفیٰ نواز کھوکھر نے شرکت کی۔
لانگ مارچ کے انتظامات پر تبادلہ خیال
اجلاس کے شرکاء نے لانگ مارچ کے انتظامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور خیبر پختونخوا کی تازہ ترین پیش رفت پر بھی اپنی آراء کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں سیاسی صورتحال کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے پر غور کیا گیا۔
بیرسٹر گوہر کا مکالمے پر زور
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے مکالمے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ سیاسی شخصیات کے خلاف طاقت کا استعمال مناسب طریقہ کار نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آمنے سامنے نہیں دیکھنا چاہتی۔
بیرسٹر گوہر نے یہ بھی کہا کہ سہیل آفریدی خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنے فرائض جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو سیاسی میدان سے باہر نہیں کیا جانا چاہیے اور خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا مؤقف
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے میں گورنر راج کے کسی بھی امکان کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت عوامی مینڈیٹ کے ساتھ برسر اقتدار آئی ہے اور وہ اپنے خلاف کسی بھی مبینہ سازش کو برداشت نہیں کریں گے۔
اجلاس میں شریک رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سیاسی استحکام کے لیے مکالمہ ناگزیر ہے اور تمام فریقین کو جمہوری طریقوں کے دائرے میں رہتے ہوئے مسائل کے حل کی کوشش کرنی چاہیے۔
