نیو یارک: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیو یارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے اور سفارتی تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کر رہی ہے۔
اسلام آباد مفاہمت نامے کے تحت امن کی کوششیں تیز
وزیراعظم نے لبنانی وزیراعظم نواف سلام کے ہمراہ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قیادت اسلام آباد مفاہمت نامے کے تحت خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ پاکستانی قیادت کی باہمی مشاورت اور کوششوں میں برکت ڈال رہا ہے تاکہ ملک کی معیشت مضبوط ہو سکے۔
آبنائے ہرمز اور باب المندب کی صورتحال پر تشویش
آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں باب المندب کی صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ برادر اور دوست ممالک صورت حال کو پرسکون کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ایرانی صدر سے ملاقات: پاکستان کے امن اقدامات پر اعتماد کا اظہار
ایران کے صدر سے ملاقات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے تصدیق کی کہ انہوں نے ایرانی صدر کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تفصیلی ملاقات میں انہوں نے ایرانی صدر کو بتایا کہ خطے میں امن کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایران ہمارا برادر ہمسایہ ملک ہے اور پہلے کی طرح پاکستان کی سول اور عسکری قیادت امن کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی صدر نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ اسلام آباد مفاہمت نامہ ایران کے لیے مکمل طور پر قابل قبول ہے اور وہ اس پر مزید کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کے خلاف سخت موقف
ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان سے آنے والے دہشت گرد پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں اور معصوم شہریوں، فوجی و پولیس افسران اور اہلکاروں کو شہید کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات انتہائی قابل مذمت ہیں اور پاکستان اس دہشت گردی کا بھرپور جواب دے رہا ہے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ہم بیٹھ نہیں رہیں گے۔
