تین اکتوبر کو جرمنی اپنا قومی دن مناتا ہے، جسے “یومِ اتحادِ جرمنی” کہا جاتا ہے۔ یہ وہ تعطیل ہے جس پر 1990 میں جرمنی کے دوبارہ اتحاد کا جشن منایا جاتا ہے۔ لیکن 36 برس گزرنے کے باوجود سابقہ مغربی جرمنی (ایف آر جی) اور سابقہ مشرقی جرمنی (ڈی ڈی آر) کے درمیان تفاوت برقرار ہے، جبکہ مشرقی جرمن آبادی کا تقریباً 20 فیصد ہیں۔
سماجی و اقتصادی خلیج کیوں برقرار ہے؟
وفاقی حکومت کی مشرقی جرمنی کے امور کی ذمہ دار مندوب کی گزشتہ ہفتے جاری کردہ سالانہ رپورٹ اس تفاوت کی تصدیق کرتی ہے۔ مشرقی جرمن اب بھی وفاقی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدوں پر کم نمائندگی رکھتے ہیں۔ وفاقی حکومت ہر سال مشکل علاقوں کی معاونت پر 4 سے 5 بلین یورو خرچ کرتی ہے، جس کا نصف سے زیادہ حصہ 2022 میں مشرقی علاقوں کو ملا۔
روستوک یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر وولف گینگ مونو کے مطابق، “اگر ہم حقیقت پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ بنیادی ڈھانچے — شہروں، سڑکوں، ریلوے اسٹیشنوں — کے معاملے میں مشرق بعض اوقات مغرب کے بہت سے پرانے ڈھانچوں سے بہتر حالت میں ہے۔”
دولت اور جائیداد میں واضح فرق
جہاں فرق سب سے زیادہ نمایاں ہے وہ جائیداد اور دولت کا معاملہ ہے۔ چالیس سالہ کمیونزم کے سبب بہت کم لوگ جائیداد کے مالک بن سکے یا نمایاں بچت جمع کر سکے۔
پروفیسر مونو مشرقی جرمنوں کے ذاتی احساس کا بھی ذکر کرتے ہیں: “یہ احساس کہ وہ کم وسائل کے ساتھ میدان میں اتر رہے ہیں، یا یہ تصور کہ اتحاد کے ثمرات سے مغربی جرمنوں نے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے۔”
انتہائی دائیں بازو کی جماعت کا سیاسی استعمال
یہ تفاوت انتہائی دائیں بازو کی جماعت “الٹرنیٹو فار جرمنی” (AfD) کے لیے انتخابی ہتھیار بن گیا ہے، جو مشرق میں خاصی مقبول ہے۔ روستوک کے قریب ایک انتخابی جلسے میں کشتی ساز تھامس نے کہا، “صرف AfD ہمارے مسائل کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔” انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا، “یہاں مشرق میں مغرب کے مقابلے کم آمدنی ہوتی ہے، اس لیے پیٹرول آخر کار ہمیں مہنگا پڑتا ہے۔ بجلی کا بھی یہی حال ہے۔”
پروفیسر مونو کے مطابق، AfD اس احساس کو باقاعدگی سے استعمال کرتی ہے۔ “اس کا بیانیہ بنیادی طور پر یہ ہے کہ ‘مغرب نے تمہیں دھوکہ دیا’، ساتھ ہی زندگی کے حالات بہتر بنانے کا وعدہ۔”
افڈی کے معاشی وعدے قابلِ عمل نہیں؟
مثال کے طور پر سیکسنی-انہالٹ میں متعدد ماہرین کا خیال ہے کہ AfD کا معاشی پروگرام، جس میں کم ٹیکس اور زیادہ سماجی فوائد کی تجویز ہے، مالی طور پر قابلِ عمل نہیں۔
یوں 36 برس بعد بھی جرمن اتحاد کا جشن اس پیچیدہ حقیقت کے سائے میں منایا جا رہا ہے کہ مشرق اور مغرب کے درمیان صرف جغرافیائی سرحد ہی ختم ہوئی ہے، معاشی اور سماجی خلیج ابھی باقی ہے۔
