لندن: بریگزٹ کے بعد اب “بریٹرن” کی بحث نے زور پکڑ لیا ہے۔ ایک تازہ سروے کے مطابق برطانیہ کی نصف سے زائد آبادی یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کے حق میں ہے، جبکہ وزیراعظم اینڈی برنہم نے بھی اس امکان کا ذکر کیا ہے۔
سروے کی تفصیلات
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق، مواصلاتی مشاورتی ادارے میسینا گروپ نے ستمبر میں 11,461 برطانوی بالغ افراد کا سروے کیا، جس میں لندن اور برسلز کے تعلقات کے سات مختلف منظرنامے پیش کیے گئے۔
ان سات منظرناموں میں سب سے زیادہ مقبول آپشن یورپی یونین میں مکمل دوبارہ شمولیت تھا، جس کی حمایت 49 فیصد جبکہ مخالفت 28.5 فیصد نے کی۔ باقی شرکاء نے کوئی رائے نہ ہونے یا معلوم نہ ہونے کا جواب دیا۔
دوسرا سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا آپشن موجودہ تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے تجارتی رکاوٹوں کو زیادہ سے زیادہ کم کرنا تھا، جس کی حمایت 48.2 فیصد اور مخالفت 20.9 فیصد نے کی۔
دیگر منظرناموں کی حمایت
- برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان کسٹم یونین: 47.1 فیصد حمایت، 20.7 فیصد مخالفت
- “ایسوسی ایٹ ممبر” کا درجہ: 45.5 فیصد مثبت رائے
- سنگل مارکیٹ میں شمولیت: 45.1 فیصد حمایت
- موجودہ تعلقات برقرار رکھنا: 41.2 فیصد حمایت
اس کے برعکس، لندن اور برسلز کے تعلقات کو مزید کمزور کرنے کی حمایت صرف 27.9 فیصد نے کی، جبکہ 41.2 فیصد نے مخالفت ظاہر کی۔
بریگزٹ پر عوامی رائے
سروے میں شامل 29.7 فیصد شرکاء نے کہا کہ برطانیہ نے 2016 میں یورپی یونین چھوڑنے کا فیصلہ درست کیا تھا، جبکہ 52.4 فیصد نے اسے غلطی قرار دیا۔
12.2 فیصد نے بریگزٹ کو کامیابی جبکہ 54.9 فیصد نے ناکامی قرار دیا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ برطانوی عوام کی بڑی اکثریت اب بریگزٹ کے نتائج سے مطمئن نہیں ہے۔
سیاسی پس منظر
وزیراعظم اینڈی برنہم نے لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس سے خطاب میں یورپی یونین میں واپسی کے امکان کا ذکر کیا تھا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ میں بریگزٹ کے اثرات پر بحث جاری ہے۔
گارڈین کے مطابق، یہ سروے برطانوی عوام کی بدلتی ہوئی رائے کا مظاہرہ کرتا ہے، جہاں یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعلقات کی حمایت میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
