منیلا: ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے منگل کے روز ایک مالی امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد ترقی پذیر رکن ممالک کو مشرق وسطیٰ کے تنازع کے معاشی اور مالی اثرات سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
بینک کے صدر مساٹو کانڈا نے ایک بیان میں کہا کہ ادارہ “تیزی سے اخراج کرنے والی بجٹ کی حمایت اور تجارت و سپلائی چین فنانس” فراہم کرے گا تاکہ تیل سمیت ضروری سامان کی درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ “یہ عالمی عدم یقینی کے ادوار کے دوران ایشیا اور بحرالکاہل کی حمایت کرنے کے ہمارے مضبوط ریکارڈ پر استوار ہے۔”
بینک کے پاس وسائل کی کوئی کمی نہیں
کانڈا نے زور دیا کہ اے ڈی بی کے پاس موجودہ اور منصوبہ بند آپریشنز کو محفوظ رکھنے کے لیے کافی وسائل ہیں، جبکہ رکن ممالک کی ضروریات کے مطابق ہنگامی امداد کو بڑھانے کے لیے، بشمول اس کے کاؤنٹر سائیکلکل لینڈنگ بفر کے استعمال کے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بینک عالمی مارکیٹ کے حالات اور ایشیا و بحرالکاہل کی معیشتوں پر ان کے ممکنہ اثرات، خاص طور پر توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، مہنگائی کے دباؤ اور بیرونی اکاؤنٹ کے توازن پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
درپیش چیلنجز
اے ڈی بی کی تازہ ترین تجزیہ رپورٹ کے مطابق، بحری راستوں میں رکاوٹوں نے پہلے ہی اخراجات اور ترسیل کے اوقات میں اضافہ کر دیا ہے۔ سپلائی کے خطرات توانائی سے آگے بڑھ کر پیٹروکیمیکلز اور کھاد جیسے اہم صنعتی اجزا تک پھیلے ہوئے ہیں، جس کے زراعت اور خوراک کی پیداوار پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مزید برآں، یہ تنازع خطے میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا رہا ہے اور مالی حالات کو سخت کر رہا ہے، جس سے کرنسیوں اور سرمایہ کے بہاؤ پر دباؤ پڑ رہا ہے۔
مدد کے دو اہم اجزا
بینک کے مطابق اس مالی مدد کے دو اہم اجزا ہیں:
- کاؤنٹر سائیکلکل سپورٹ فیسیلٹی کا استعمال تاکہ معیشتوں کو مستحکم کیا جا سکے اور کمزور گروہوں پر جھٹکوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
- ٹریڈ اینڈ سپلائی چین فنانس پروگرام کی حمایت تاکہ توانائی اور سامان سمیت اہم درآمدات کا بہاؤ جاری رہے، جس میں تیل کی درآمد کی حمایت کو عارضی طور پر دوبارہ فعال کرنا بھی شامل ہے۔
متاثرہ ممالک سے بات چیت
ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے کہا ہے کہ اس نے شدید متاثرہ تمام ترقی پذیر رکن ممالک کے ساتہ ممکنہ فوری مدد پر بات چیت شروع کر دی ہے۔ بینک کا یہ اقدام خطے میں اقتصادی استحکام اور ضروری اشیا کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوششوں کا ایک اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
