وزیر خزانہ کی زیر صدارت اجلاس میں توانائی کی فراہمی کا جائزہ
اسلام آباد: عالمی تیل کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے باوجود پاکستان نے مارچ اور اپریل کے مہینوں کے لیے پیٹرول کی ترسیلات کو “بڑی حد تک محفوظ” کر لیا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظر رکھنے والے کمیٹی کے اجلاس میں یہ اہم پیش رفت سامنے آئی۔
حکومت کی اولین ترجیح: مسلسل فراہمی
وزارت خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق، اجلاس میں توانائی کی فراہمی کے حالات اور عالمی تیل و گیس کی مارکیٹوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے زور دے کر کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ “پیشگی منصوبہ بندی، متنوع حصول کی حکمت عملی اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی” نے عالمی عدم استحکام کے باوجود ملکی سطح پر مستحکم فراہمی کو ممکن بنایا ہے۔
اضافی ترسیلات سے ذخائر کو مضبوط بنانے کا منصوبہ
اجلاس میں شرکاء کو بتایا گیا کہ ترسیلات کے شیڈول کے مطابق آمد جاری ہے اور مارچ کے بعد اب اپریل کے لیے پیٹرول کارگو بھی بڑی حد تک محفوظ ہو چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، فراہمی کے بفرز کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اضافی ترسیلات کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں اہم پارٹنر ممالک کے ساتھ متنوع سورسنگ حکمت عملیوں اور لاجسٹک انتظامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔
نگرانی اور مربوط پالیسی ردعمل پر زور
وزیر خزانہ نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ بین الاقوامی صورتحال، اسٹاک کی سطح اور سپلائی چین ڈائنامکس پر مسلسل چوکسی سے نظر رکھیں تاکہ بروقت اور مربوط پالیسی ردعمل کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مستقل رابطے اور دانشمندانہ منصوبہ بندی مارکیٹ کی استحکام اور قومی توانائی کی سلامتی کو برقرار رکھنے کی کوششوں کی رہنمائی کرتی رہے گی۔
مشرق وسطیٰ تنازعے کے تناظر میں حکمت عملی
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں تنازعے کی وجہ سے عالمی تیل کی سپلائی لائنز میں رکاوٹوں کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے اس ماہ کے شروع میں ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی تھی۔ امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پاکستان نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا تھا۔
اس کے بعد سے حکومت نے ایندھن کے اخراجات میں اضافے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اخراجات میں کمی اور ایندھن کے تحفظ کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔ گزشتہ دو ہفتہ وار جائزوں میں حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو برقرار رکھا ہے۔
اجلاس میں شریک اہم شخصیات
اس اہم اجلاس میں وزیر برائے پاور سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین اور وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
