مقبوضہ مغربی کنارے میں منگل چھ اکتوبر کو اے ایف پی کے ایک فوٹو جرنلسٹ کو اسرائیلی آباد کاروں نے تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کی جانب گولیاں چلائیں۔ واقعے کے وقت صحافی علاقے میں رپورٹنگ کر رہے تھے۔
حملے کی تفصیلات
اے ایف پی کے مطابق 58 سالہ فلسطینی فوٹوگرافر جعفر اشتیہ کو سر اور سینے پر چوٹیں آئیں اور انہیں ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کے ساتھ موجود اے ایف پی کے فوٹو چیف جان ویسلز کے مطابق یہ حملہ اُس وقت ہوا جب دونوں صحافی مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی علاقے عقرابا کے قریب زیتون کی سالانہ فصل کی کٹائی سے متعلق رپورٹ تیار کر رہے تھے۔
اس دوران ایک اسرائیلی فوجی نے ایک فلسطینی کو گرفتار کیا تو اچانک ایک گاڑی وہاں آئی اور اس میں سوار ایک شخص نے صحافیوں اور موجود فلسطینیوں کی جانب فائرنگ شروع کر دی۔ اس کے بعد کم از کم چھ افراد نے گولیاں چلاتے ہوئے اے ایف پی کے صحافیوں کی جانب دوڑ لگائی۔ جب جعفر اشتیہ اے ایف پی کی گاڑی میں سوار ہو کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے تو دو حملہ آوروں نے انہیں پکڑ کر رائفلوں کے بٹوں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔
ہسپتال میں زیر علاج
زخمی فوٹوگرافر اس وقت مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس کے ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان کے بیٹے زین جعفر کے مطابق وہ ہوش میں ہیں اور ان کے طبی معائنے کیے جانے ہیں۔
اے ایف پی کی مذمت
اے ایف پی کے ڈائریکٹر برائے اطلاعات فل چیٹ ونڈ نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مغربی کنارے کی صورتحال کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے خلاف ایک اور سنگین حملہ ہے اور ہم اس کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ پہلا نہیں ہے۔ اگست میں بھی اسرائیلی آباد کاروں نے اے ایف پی کے تین صحافیوں پر حملہ کیا تھا۔
