علی امین گنڈاپور کی سیاسی چالوں پر نظر

اسلام آباد: 26 نومبر 2024 کی سرد رات کو، جب سابقہ خاتون اول بشریٰ بی بی نے اسلام آباد کے سری نگر ہائی وے پر مظاہرین کی قیادت شروع کی، تو ان کے چہرے کی تشویش واضح تھی۔ اس وقت، ان کا مقصد اپنے شوہر، عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنا تھا۔ پارٹی کے دو سینئر رہنماؤں کے مطابق، وہ شدید پریشان تھیں، خاص طور پر اس وقت جب خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور جو کہ اصل میں اس قافلے کی قیادت کرنے والے تھے، بہت پیچھے رہ گئے تھے۔

یہ واقعہ نہ صرف پی ٹی آئی کے اندر شدید اختلافات کا باعث بنا، بلکہ پارٹی کے مختلف دھڑوں کے درمیان طاقت کی کشمکش کو بھی بڑھا دیا۔ اس رات د چوک پر ہونے والے واقعات نے پارٹی کو مزید تقسیم کردیا، اور بشریٰ بی بی نے علی امین پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے انہیں د چوک میں اکیلا چھوڑ دیا، جس کے بعد پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کارکنوں نے وزیراعلیٰ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

علی امین کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بشریٰ بی بی کو ہنگامے سے نکالنے میں بہادری کا مظاہرہ کیا اور انہیں مارگلہ کی پہاڑیوں کے ذریعے مانسہرہ پہنچایا۔ لیکن اس کے باوجود، اس واقعے نے علی امین کی پوزیشن کو بہت متاثر کیا۔ انہیں اس وقت بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے اگست 2024 میں اپنے وزیر مواصلات کو بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے عہدے سے ہٹا دیا، جو کہ پارٹی کے اندر موجود ایک طاقتور گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔

علی امین کی موجودہ صورت حال اس وقت مزید پیچیدہ ہوگئی جب انہیں پارٹی کے اندر اور باہر دونوں جگہ طاقت کے مختلف مراکز کو منظم کرنے کی کوششیں کرنی پڑیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے قائد عمران خان کے لیے کچھ اہم اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس نے ان کی قیادت کو مزید چیلنجز میں مبتلا کردیا ہے۔

اس کے باوجود، علی امین نے وفاقی حکومت کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے، کیونکہ خیبر پختونخوا کی معیشت وفاقی وسائل پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔ سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ علی امین نے اپنے عہدے کے ابتدائی چند ماہ میں حکمرانی کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کی مشکلات کا سامنا کیا، جبکہ پارٹی کے اندر سے احتجاجی قافلے نکالنے کے مطالبات بھی بڑھتے گئے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ علی امین نے خود کو اپنے ہی پارٹی کے اندر سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جہاں ان کے سوشل میڈیا کارکنوں نے انہیں دھوکہ دہی اور ناکامی کے الزام میں نشانہ بنایا ہے۔ ان کی سیاسی کیریئر میں یہ پہلا موقع ہے جب وہ اس قدر دباؤ میں ہیں، اور اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ اپنے قائد کے لیے کچھ مثبت نتائج حاصل کر سکیں گے یا نہیں۔