جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کو سپریم کورٹ کی خالی آسامیوں کے لیے نامزد

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کو سپریم کورٹ کی خالی آسامیوں کے لیے نامزد امیدواروں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ پہلے ہائی کورٹ نے چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس مینگل حسن اورنگزیب کے ناموں کی سفارش کی تھی، لیکن اب انتظامیہ نے فہرست میں جسٹس ڈوگر کا نام بھی شامل کر دیا ہے۔

جڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) آج (پیر) کو آٹھ خالی سپریم کورٹ کی آسامیوں کی تقرریوں کے لیے ملاقات کرنے والا ہے۔ اس مہینے کے شروع میں، کمیشن نے تمام ہائی کورٹوں سے نامزدگیاں طلب کی تھیں اور ہر ایک سے پانچ سینئر ججز کی فہرست مانگی تھی۔ ابتدائی طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے صرف تین ججز کی نامزدگی کی تھی کیونکہ دوسرے دو سینئر ججز، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار، نے پانچ سال کی خدمات کی کم از کم شرط پوری نہیں کی۔

جڈیشل کمیشن کے آج ہونے والی میٹنگ کے دوران، ججز کی یہ فہرست حتمی شکل دی جائے گی۔ تاہم، حالیہ دنوں میں جسٹس ڈوگر کے نام کی شمولیت کے پس منظر میں، اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ افریدی اور IHC کے چیف جسٹس عامر فاروق سے اپنی سینئرٹی کی بحالی کی درخواست کی تھی۔

یہ ججز اس بات پر زور دے رہے تھے کہ کسی بھی منتقل شدہ جج کو آئین کے آرٹیکل 194 کے تحت ایک نئی قسم کی حلف اٹھانی چاہیے، جس کے نتیجے میں وہ IHC کی سینئرٹی کی فہرست میں آخری پوزیشن پر آجائیں گے۔ یہ صورتحال انہیں IHC کے چیف جسٹس کے عہدے کے لیے فوری طور پر نااہل قرار دے گی، جو کہ جڈیشل کمیشن کے تقرری کے قواعد 2024 کے خلاف ہے۔

ججز نے اپنی نمائندگی میں وضاحت کی کہ جب کوئی جج کسی ہائی کورٹ میں مقرر ہوتا ہے تو وہ اس ہائی کورٹ کے لیے حلف اٹھاتا ہے، اور آئینی ارادے کے مطابق جب وہ دوسری ہائی کورٹ میں منتقل ہوتے ہیں تو انہیں ایک نئی قسم کی حلف اٹھانی چاہیے۔ اس اصول کی بنیاد پر، کسی بھی جج کی سینئرٹی جو دوسری ہائی کورٹ میں منتقل ہوتا ہے، ان کی نئی حلف اٹھانے کی تاریخ سے طے ہونی چاہیے۔

یہ ججز اس بات کی وضاحت بھی کر رہے تھے کہ ان کی نمائندگی صرف سینئرٹی کے مسئلے سے متعلق ہے، اور اس کا منتقلی ججز سے کوئی تعلق نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے چار ججز نے بھی اسی طرح کے خدشات اٹھائے ہیں اور وہ بھی JCP کے اجلاس کو ملتوی کرنے کی درخواست کر رہے ہیں جب تک کہ 26 ویں ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کا فیصلہ نہ ہو جائے۔

انہوں نے خط میں کہا کہ اگرچہ ججز کی شمولیت جو 26 ویں ترمیم کے نتیجے میں فائدہ اٹھاتے ہیں، عوام کے اعتماد کو متاثر کرے گی اور معاملات کو مزید پیچیدہ بنا دے گی۔ خط میں یہ بھی کہا گیا کہ مختلف ہائی کورٹس سے IHC میں ججز کی حالیہ منتقلی مستقل یا کھلی مدت کی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ یہ عارضی اور وقت کی قید میں ہونی چاہیے۔

ججز نے اس بات پر سوال اٹھایا کہ کسی جج کو جو اپنی ہائی کورٹ میں کسی ایسے عہدے کے لیے اہل نہیں ہوتا، اچانک کیوں سپریم کورٹ کے لیے اہل سمجھا جائے؟ اس خط میں واضح کیا گیا کہ موجودہ حالات میں امیدواروں کی فہرست آئینی طور پر ناقص ہے۔

یہ صورتحال نہ صرف ججز کے مابین تناؤ کو بڑھا رہی ہے بلکہ عدالت کی تشکیل میں بھی اہم تبدیلیوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔