اسلام آباد – ایک اہم قانونی پیش رفت میں، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایگزیکٹو چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی قیادت میں القادر ٹرسٹ کو بطور خیراتی ادارہ رجسٹر کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ اس اکاؤنٹیبلٹی کورٹ کے فیصلے کے بعد آیا ہے جس میں القادر ٹرسٹ کے خلاف ۱۹۰ ملین پاؤنڈ کی بدعنوانی کیس کا فیصلہ دیا گیا تھا۔
عدالت کے اس فیصلے کے تحت سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو اس بدعنوانی میں ملوث ہونے پر بالترتیب چودہ اور سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ عدالت نے القادر یونیورسٹی پروجیکٹ ٹرسٹ کی جائیداد کو بھی حکومت کے قبضے میں لینے کا حکم دیا ہے اور اسے ایک فراڈ قرار دیا ہے۔
اس کیس میں دیگر ملوث افراد، بشمول بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض حسین، ان کے بیٹے احمد علی ریاض ملک، سابق احتسابی سربراہ مرزا شہزاد اکبر، سابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی ذوالفقار بخاری، فرحت شہزادی، اور ضیاء المصطفیٰ نسیم کو اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔ ان افراد کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ اور جائیداد ضبطی کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں۔
القادر ٹرسٹ کی رجسٹریشن کی درخواست ابتدائی طور پر عمران خان نے دائر کی تھی جو اکتوبر ۲۰۲۳ سے زیر التوا تھی۔ تاہم، جسٹس ڈوگر نے کہا کہ اکاؤنٹیبلٹی کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ درخواست غیر موثر ہو گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹرسٹ کی جائیداد پہلے ہی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت کی تحویل میں ہے۔
القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے وکیل جہانزیب سکھیرہ نے عدالت کو بتایا کہ ٹرسٹ کے متعلق کئی درخواستیں ابھی ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں۔ انہوں نے اپنے موکل سے مزید قانونی مشورے کے لیے وقت کی درخواست کی۔ جسٹس ڈوگر نے زیر التوا معاملات کا اعتراف کرتے ہوئے وکیل کو تیاری کے لئے وقت دیا اور کیس کو ایک ماہ کے لئے ملتوی کر دیا۔
یہ فیصلہ القادر ٹرسٹ کے گرد قانونی کارروائیوں میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے، کیونکہ اس کا مستقبل غیر یقینی ہے جب تک کہ ممکنہ اپیلیں سن کر فیصلہ نہیں کیا جاتا۔
