اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جمعرات کو وزیر دفاع خواجہ آصف اس بیان کی شدید مذمت کی ہے جس میں انہوں نے آزاد جموں و کشمیر کے علاقے راولا کوٹ کے رہائشیوں کی شناخت پر سوال اٹھائے تھے۔ یہ علاقہ حالیہ پرتشدد احتجاج کا مرکز بنا ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے بیانات کشمیر میں پہلے سے کشیدہ صورت حال کو مزید ہوا دے رہے ہیں اور حکومت کو تحمل کا مظاہرہ کرنااہیے۔
فضل الرحمان کا ردعمل: جذباتی بیانات حکومت کے شایان شان نہی
جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر زور دیا کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں کئی جذباتی بیانات دیے گئے، بشمول اسپیکر ایاز صادق کے، لیکن جب حکومت کا ردعمل جذباتی ہو جائے تو یہ اس کے وقار کے مطابق نہیں ہوتا۔
مولانا فضل الرحمان نے براہ راست خواجہ آصف پر تنقید کرتے ہوئےہا کہ ان کے بیانات ایک وزیر دفاع کے شایان شان نہیں ہیں اور اس سے صرف کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا،آپ نے لڑائی خواجہ آصف کے حوالے کر دی ہے اور مصالحت اسحاق ڈار کے۔”
انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کی جانب سے ایک باضابطہ خط موصول ہوا ہے جسے انہوں نے حکومت کو بھجوا دیا تھا، تاہم ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ مظاہرین کے چارٹر آف ڈیمانڈز پر غور کیا جائے اور صرف تقریروں کی بنیاد پر ریاستی کارروائی نہ کی جائے۔
انہوں نے کمیٹی کے مظفر آباد کی طرف مارچ ملتوی کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ انہوں نے اس خط کا جواب ویڈیو پیغام کے ذریعے دیا ہے۔
بلاول بھٹو کا سخت مؤقف: وزرا آگ بجھانے کے بجائے تیل چھڑک رہے ہیں
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زاری نے وفاقی وزرا پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ “ہمارے پاس ایسے وزیر کیوں ہیں جو کہتے ہیں کہ راولا کوٹ کے رہائشی کشمیری نہیں ہیں؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار وزیر نے تاحال معافی کیوں نہیں مانگی۔بلاول نے وزیر اعظم پر زور دیا کہ وہ اپنی ٹیم کو قابو میں رکھیں اور کہا کہ ایک وفاقی وزیر نے آگ بجھانے کے بجائے اس پر مزید تیل چھڑک دیا۔ انہوں نے کہا کہانا فضل الرحمان کو اس معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے جگہ دی جانی چاہیے۔
بلاول نے کراچی کے بلدیاتی نظام کا مسئلہ بھی اٹایا اور ایم کیو ایم کو تنبیہ کرتے ہوئے کہاہ اگر وزیر اعظم اور حکومت ان کے مطالبات تسلیم نہیں کر رہے اور صرف لالی پاپ دے رہے ہیں تو انہیں وفاقی حکومت سے علیحدگی اختیار کر لینی چاہیے۔ “کتنی دیر اس لالی پاپ پر چلتے رہیں گے؟ وفاقی حکومت سے نکلیں،” انہوں نے کہا۔
رانا ثناء اللہ کا دفاع: ممنوعہ کمیٹی انتخابات روکنا چاہتی ہے
حکومت کی جانب سے جواب دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر رانا ثناء اللہ نے الزام عائد کیا کہ جے اے اے سی کا اصل مقصد آزاد کشمیر کے انتخابات کو روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے گزشتہ سال بھی آتش زنی اور تشدد کا راستہ اپنایا تھا اور اس وقت پیش کیے گئے 38 مطالبات میں سے سب پر کام کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو پورے پاکستان میں مہنگی بجلی کے باوجود ساڑھے تین روپے فی یونٹ بجلی دی جا رہی ہے اور بجلی کے مسائل کے لیے 10 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ 12 مہاجر نشستوں کا معاملہ آئینی اور قانونی نوعیت کا ہے اور حکومت نے اس پر سفارشات کے لیے 6 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ ان کا الزام تھا کہ ممنوعہ کمیٹی نے آل پارٹیز کانفرنس سمیت حکومت کی تمام پیشکشوں کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ مہاجرین کو ووٹ کے حق سے محروم کرنا تحریک آزادی کے بنیادی مقصد سے انحراف ہے۔ تاہم، انہوں نے تسلیم کیا کہ مولانا فضل الرحمان کے بیانات کا وزن ہے اور حکومت ان کے کسی بھی ثالثانہ کردار کا خیرمقدم کرے گی۔
