سوئٹزرلینڈ مذاکرات کے بعد فریقین کے بیانات میں تضاد، آبنائے ہرمز اور منجمد اثاثے بھی تنازع کا شکار
واشنگٹن/تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے “لامحدود” معائنے کی شرط مان لی ہے، جبکہ تہران نے فوری طور پر اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات میں ایسی کوئی رعایت نہیں دی گئی۔ اس متضاد مؤقف نے نازک امن معاہدے کی راہ میں نئی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔
سوئٹزرلینڈ میں پیر کو اختتام پذیر ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے بعد دونوں ممالک نے مالی مراعات، آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور لبنان میں اسرائیل کی متوازی جنگ جیسے اہم پہلوؤں پر بھی متضاد بیانات دیے۔ یہ تمام نکات گزشتہ ہفتے جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے فریم ورک معاہدے کا حصہ ہیں۔
ٹرمپ کا پُرامید لہجہ، لیکن حقائق کچھ اور
ان اختلافات کے باوجود صدر ٹرمپ نے پنسلوانیا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات “کافی اچھے” چل رہے ہیں۔ تاہم، ان کے اس بیان نے حیرت کو جنم دیا جب انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا: “ایران نے مستقبل بعید (لامحدود!!!) تک اعلیٰ ترین سطح کے جوہری معائنوں پر مکمل اور کلی طور پر رضامندی دے دی ہے۔”
دوسری جانب، جنیوا میں اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر علی بحرینی نے واضح کیا کہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام پر کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے انسپکٹرز کو واپس بلانے پر کوئی معاہدہ طے پایا ہے۔
منجمد اثاثوں اور آبنائے ہرمز پر بھی کشمکش
یہ تضاد صرف جوہری معائنوں تک محدود نہیں ہے۔ بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں تک رسائی کی شق پر بھی فریقین میں اختلاف ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ رقم صرف امریکہ سے خوراک اور طبی سامان کی خریداری پر خرچ ہوگی، جبکہ سفیر بحرینی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ “ایران خود فیصلہ کرے گا کہ اس رقم کو کہاں خرچ کرنا ہے۔”
اسی طرح، عالمی توانائی کی سپلائی کے پانچویں حصے کی گزرگاہ آبنائے ہرمز پر بھی تنازع برقرار ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خلیجی اتحادیوں کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ کسی بھی حتمی معاہدے میں ایران کو آبنائے ہرمز پر ٹول وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کے برعکس ایران اور عمان نے مشترکہ بیان میں آبنائے میں اپنے “خودمختار حقوق” پر زور دیا ہے۔
لبنان کی جنگ: امن کی راہ میں کانٹا
لبنان میں ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی جنگ بھی ایک اہم رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ ایرانی سفیر کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت اسرائیل کو لبنان سے اپنی فوجیں نکالنی ہوں گی، جبکہ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں ایک سیکیورٹی زون برقرار رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ منگل کو واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کی تجدید کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہو گئے، جس پر حزب اللہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
کانگریس میں ٹرمپ کو چیلنج، عوامی حمایت میں کمی
ادھر امریکہ کے اندر جنگ کے لیے عوامی اور سیاسی حمایت کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک رائٹرز/ایپسوس سروے کے مطابق صرف 23 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ جنگ کے بعد ایران کے مقابلے میں امریکہ مضبوط پوزیشن میں ہے، جبکہ 35 فیصد کا ماننا ہے کہ پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔
ریپبلکن کے زیر کنٹرول سینیٹ نے بھی صدر کو بڑا دھچکا دیتے ہوئے 50-48 کی ووٹ سے جنگ روکنے کی قرارداد منظور کر لی، جو کہ اگرچہ علامتی نوعیت کی ہے لیکن ٹرمپ کی ہی پارٹی میں گہری دراڑوں کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں نے وار پاورز ایکٹ کے تحت صدر کو دشمنی سے فوجیں ہٹانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کی ہے۔
