برازیلیا — برازیل میں اتوار کو ہونے والے عام انتخابات میں شدید دائیں بازو کے سابق صدر جائر بولسونارو کے خاندان نے زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔ سینیٹر فلاویو بولسونارو نے صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں حیران کن طور پر بائیں بازو کے موجودہ صدر لولا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
خاندان کے دیگر افراد بھی کامیاب
صرف فلاویو ہی نہیں بلکہ بولسونارو خاندان کے دیگر افراد نے بھی قانون ساز انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے۔ جائر بولسونارو کی اہلیہ مشیل بولسونارو اور ان کے دوسرے بیٹے کارلوس بولسونارو سینیٹ کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔ ان کی جماعت لبرل پارٹی نے سینیٹ کی 54 میں سے 19 نشستیں جیتی ہیں اور کل 81 میں سے 28 نشستوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
جائر بولسونارو کو براہ راست فائدہ
جائر بولسونارو، جو بغاوت کی کوشش کے الزام میں سزا کے بعد نااہل قرار دیے گئے ہیں اور نظربند ہیں، کو اس صورتحال سے براہ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ان کی جماعت کے پاس اب معافی قانون منظور کرانے کے لیے مضبوط اکثریت موجود ہے۔
واضح رہے کہ جائر بولسونارو نے جیل سے ہی اپنے بڑے بیٹے فلاویو کو صدارتی دوڑ کے لیے نامزد کیا تھا، جس پر ان کی اپنی جماعت میں بھی تنقید کی گئی تھی۔ لیکن اب 45 سالہ فلاویو دوسرے مرحلے میں لولا کے خلاف مضبوط پوزیشن میں نظر آتے ہیں۔
گورنروں کی سطح پر بھی کامیابیاں
بولسونارو کے حامیوں نے گورنروں کی سطح پر بھی شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں:
- ساؤ پالو ریاست میں تارسیزیو ڈی فریتاس 60 فیصد سے زائد ووٹوں کے ساتھ دوبارہ منتخب ہوئے، جس سے لولا کے سابق وزیر خزانہ فرنینڈو ہداد کو شکست ہوئی
- پارانا ریاست میں جج سرجیو مورو، جنہوں نے بدعنوانی کے الزام میں لولا کو سزا سنائی تھی، گورنر منتخب ہوئے
- ریو ڈی جنیرو میں بولسونارو کے حامی ڈگلس رواس نے لولا کے اتحادی ایڈورڈو پائیس کو شکست دے کر حیران کن کامیابی حاصل کی
فلاویو بولسونارو کی والدہ روگیریا البتہ ایوان زیریں کے انتخابات میں معمولی فرق سے کامیاب نہ ہو سکیں۔
یہ انتخابی نتائج برازیل کی سیاست میں دائیں بازو کی لہر کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں بولسونارو خاندان کی سیاسی طاقت اپنے سربراہ کی غیر موجودگی کے باوجود برقرار ہے۔
