کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان سرحدی تنازعہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں 24 جولائی 2025 کو لڑائی بھڑک اٹھی۔ یہ جھڑپیں فضائی حملوں، ٹینکوں اور زمینی افواج کے استعمال تک پہنچ چکی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اس تنازعے میں اب تک 33 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کمبوڈیا نے فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے، جبکہ تھائی لینڈ نے کمبوڈیا سے ‘خلوص’ کے ساتھ بات چیت کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ تنازعہ طویل عرصے سے جاری ہے اور مئی میں اس میں شدت آئی جب ایک کمبوڈیائی فوجی سرحدی علاقے میں فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوا۔ دونوں ممالک کے درمیان 800 کلومیٹر کی سرحد پر اختلاف ہے، جس کا آغاز انڈوچائنا کے دور سے ہوتا ہے۔ 2013 میں بین الاقوامی عدالت انصاف نے اس مسئلے کو حل کیا تھا، لیکن موجودہ بحران نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا ہے۔
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان تعلقات میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب کمبوڈیا کے سابق وزیر اعظم ہن سین نے تھائی لینڈ کی اس وقت کی وزیر اعظم پیتونگتارن شیناواترا کی سرحدی تنازعہ پر دی گئی آڈیو کو افشا کر دیا۔ اس واقعے نے تھائی لینڈ میں سیاسی بحران کو جنم دیا اور وزیر اعظم کی معطلی کا سبب بنا۔
دونوں ممالک ایک دوسرے پر پہلے فائرنگ شروع کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔ تھائی لینڈ کا دعویٰ ہے کہ کمبوڈیا نے شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جن میں ایک اسپتال اور پٹرول پمپ شامل ہیں، جبکہ کمبوڈیا نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ جھڑپیں قدیم مندروں کے علاقوں میں شروع ہوئیں اور پھر سرحد پر پھیل گئیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ کمبوڈیا کے اقوام متحدہ میں سفیر چھیہ کیو نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کا ملک فوری، غیر مشروط جنگ بندی اور پرامن مذاکرات کا خواہاں ہے۔ دوسری طرف، تھائی لینڈ کے وزیر خارجہ ماریس سانگیاپوسا نے کمبوڈیا سے ‘خلوص نیت’ کے ساتھ مذاکرات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کمبوڈیا کو تھائی لینڈ کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے۔
تنازعے نے ہزاروں افراد کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے۔ تھائی لینڈ میں 138,000 سے زائد لوگ متاثرہ علاقے سے نکلنے پر مجبور ہوئے، جبکہ کمبوڈیا میں 35,000 سے زائد افراد اپنا گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔ اس تنازعے کے حل کے لیے عالمی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔

