پیرس: فرانس کی یہودی تنظیموں کی نمائندہ کونسل (کریف) کے صدر یوناتن عرفی نے بدھ کے روز ایک فرانسیسی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں فلسطینی شہریوں کی انسانی تکلیف کے بارے میں ہماری ہمدردی میں کوئی کمی نہیں آئی، تاہم انہوں نے اس تکلیف کا ذمہ دار سب سے پہلے حماس کو قرار دیا۔
یومِ یادگار پر کریف کے صدر کا بیان
یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کی برسی منائی جا رہی ہے، جن حملوں کے بعد اسرائیلی فوج نے غزہ میں وسیع فوجی کارروائی کا آغاز کیا۔ کریف کے صدر نے اس موقع پر یہودیوں کے خلاف ایک “غیر انسانی ہونے کے الزام” کو مسترد کیا اور اسے ناقابل قبول قرار دیا۔
“میں ایک انسانیت پسند ہوں”
یوناتن عرفی نے واضح کیا کہ وہ فلسطینی شہریوں کے دکھ سے متاثر ہوئے ہیں اور اس تکلیف کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق یہ ایک حقیقی انسانی المیہ ہے جس کا سامنا کرنا ضروری ہے، لیکن اس کی بنیادی ذمہ داری حماس پر عائد ہوتی ہے جس نے فلسطینی شہری آبادی کو یرغمال بنایا۔
- کریف کے صدر نے فلسطینی شہریوں کی تکلیف کو “حقیقی” قرار دیا۔
- انہوں نے اس تکلیف کا ذمہ دار حماس کو ٹھہرایا۔
- یہودیوں کے خلاف “غیر انسانی ہونے کے الزام” کو ناقابل قبول کہا۔
غزہ میں ہلاکتوں کا اعداد و شمار
حماس کی وزارت صحت کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، سات اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں غزہ کی پٹی میں 74,200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں، تاہم بین الاقوامی سطح پر اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
فرانس میں یہودی برادری کا مؤقف
کریف کے صدر کا یہ بیان فرانس میں بڑھتی ہوئی سماجی اور سیاسی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے اثرات مقامی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ فرانس کے یہودیوں پر انسانی ہمدردی کی کمی کا الزام لگانا درست نہیں اور یہ ایک غیر منصفانہ تنقید ہے۔
واضح رہے کہ انسانی ہمدردی اور تنازعات کے پیچیدہ سیاسی پہلوؤں پر بحث بین الاقوامی سطح پر جاری ہے، جہاں مختلف فریق اپنے اپنے مؤقف کے حق میں دلائل پیش کر رہے ہیں۔
