پیرس: فرانس کی معروف ایوی ایشن کمپنی ڈاسوٹ ایوی ایشن نے سربیا کے ساتھ ایک نیا معاہدہ طے کیا ہے جس کے بعد کمپنی کے رافیل طیاروں کے آرڈرز کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس معاہدے کو ایوی ایشن صنعت میں ایک اہم کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ڈاسوٹ کے سربراہ نے کہا ہے کہ وہ اب ہر مہینے چار رافیل طیارے تیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ معاہدہ کمپنی کے لیے ایک بڑی تجارتی کامیابی کی علامت ہے جبکہ مستقبل میں مزید معاہدوں کی توقع بھی کی جا رہی ہے۔ سربیا کے ساتھ یہ معاہدہ ان کی دفاعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
دوسری طرف، بھارت نے بھی ڈاسوٹ کے رافیل طیاروں میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور 26 مزید یونٹس خریدنے کے لیے تیار ہے۔ بھارت کی اس دلچسپی نے دفاعی صنعت میں ایک نئی جہت کا اضافہ کیا ہے۔ بھارت مستقبل میں اپنے لڑاکا طیارے بھی تیار کرنے کی خواہش رکھتا ہے، تاہم رافیل کی موجودہ کارکردگی نے اس کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔
سربیا کے ساتھ معاہدے کے بعد، رافیل کی فروخت میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف ڈاسوٹ ایوی ایشن کے لیے بلکہ فرانسیسی دفاعی صنعت کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس کے علاوہ، کمپنی کی کوشش ہے کہ وہ دیگر ممالک جیسے پرتگال اور بھارت کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو مضبوط کرے تاکہ مزید آرڈرز حاصل کیے جا سکیں۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ حالیہ عرصے میں ڈاسوٹ کے فالوکن طیاروں کی فروخت کم رہی ہے، جس کی وجہ سے کمپنی کو مالیاتی منڈی میں کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، رافیل کے نئے معاہدے نے ڈاسوٹ کی مارکیٹ میں ساکھ کو بہتر بنایا ہے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے میں مدد کی ہے۔
یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عالمی سطح پر دفاعی صنعت کو نئی چیلنجز کا سامنا ہے، اور اس طرح کے معاہدے ان صنعتوں کو نئی زندگی دیتے ہیں۔ ڈاسوٹ کی یہ کامیابی عالمی دفاعی مارکیٹ میں فرانسیسی ٹیکنالوجی کی برتری کو ظاہر کرتی ہے۔
