اسرائیلی افواج نے غزہ کی پٹی کے لیے امداد لے جانے والی برطانوی پرچم بردار کشتی میڈیلین کو سمندری سفر کے دوران روک لیا ہے۔ فریڈم فلوٹیلا کولیشن نے اس اقدام کو خلاف قانون قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشتی پر موجود نہتے سویلین افراد اور عملے کو اغوا کیا گیا۔
کشتی پر بارہ ایکٹیوسٹس سمیت گریٹا تھنبرگ بھی موجود تھیں۔ اس کا مقصد غزہ کی ناکہ بندی کو توڑ کر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد فراہم کرنا تھا۔ یورپی پارلیمان کی رکن ریما حسن بھی اس میں شامل تھیں۔
فریڈم فلوٹیلا کولیشن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی پانیوں میں کشتی پر حملہ کیا اور اسے زبردستی روکا۔ بیان میں کہا گیا کہ کشتی پر موجود عملے اور نہتے افراد کو اغوا کر کے زندگی بچانے کے لیے ضروری سامان جیسے بےبی فارمولا، خوراک اور طبی سامان کو ضبط کر لیا گیا۔
کولیشن کی منتظم ہویدہ عراف نے کہا کہ اسرائیل کے پاس کشتی کے رضاکاروں کو حراست میں لینے کا کوئی قانونی اختیار نہیں۔ انہوں نے کشتی پر سوار تمام ایکٹیوسٹس کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے کشتی کو روکے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسے بحفاظت اسرائیلی ساحل کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ کشتی پر لدی ہوئی امداد کو حقیقی امدادی راستوں کے ذریعے غزہ پہنچایا جائے گا۔
غزہ میں انسانی بحران کے پیش نظر امداد کی فوری ضرورت ہے۔ گزشتہ ماہ بھی فریڈم فلوٹیلا کی کوشش ناکام ہوئی جب ان کی کشتی پر بین الاقوامی پانیوں میں حملہ ہوا۔ یہ ساری صورت حال غزہ کے بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
