ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں پولیس چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا، جہاں خودکش کار بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرا دی، جس سے زوردار دھماکہ ہوا۔
شہداء میں پولیس، کسٹم اہلکار اور خواتین شامل
ذرائع کے مطابق شہداء میں چھ پولیس اہلکار، دو کسٹم حکام، دو خواتین اور ایک دو سالہ بچہ شامل ہیں۔ حملے میں پولیس اور کسٹم کے متعدد اہلکاروں سمیت کئی دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی جا رہی تھی، جس کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، علاقہ محاصرے میں
دھماکے کے فوری بعد سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی نفری موقع پر پہنچ گئی۔ علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا اور سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن شروع کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق حملے کا نشانہ انسدادِ سمگلنگ چیک پوسٹ تھی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے میں انسدادِ سمگلنگ ’امن میلہ پولیس چیک پوسٹ‘ پر خودکش حملے کی پرزور مذمت کی اور دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار بھی کیا۔
بلوچستان کے ضلع ڈوکی میں 18 تعمیراتی کارکن اغوا
ادھر بلوچستان کے ضلع ڈوکی میں مسلح حملہ آوروں نے ایک روڈ کنسٹرکشن کمپنی کے کیمپ پر حملہ کر کے 18 کارکنوں کو اغوا کر لیا، جبکہ ایک سیکیورٹی گارڈ شہید اور ایک شدید زخمی ہوگیا۔
- حملہ ڈوکی کے علاقے نانہ صاحب زیارت میں تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر ہوا۔
- حملہ آوروں نے گارڈز سے فائرنگ کا تبادلہ کیا، جس میں ایک گارڈ شہید اور ایک شدید زخمی ہوا۔
- حملہ آور کیمپ میں مقیم 18 تعمیراتی کارکنوں کو ساتھ لے کر فرار ہوگئے۔
- سیکیورٹی فورسز نے اغوا شدہ کارکنوں کی تلاش اور حملہ آوروں کے سراغ رسانی کے لیے اطراف کے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
ڈوکی کوئٹہ سے تقریباً 315 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے، جو بلوچستان کا دارالحکومت ہے۔
