پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت نے کبھی بات چیت سے انکار نہیں کیا اور وہ آج بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو دعوت دی کہ وہ مذاکرات کا آغاز کرے، اور یاد دلایا کہ طے شدہ لانگ مارچ سے قبل ابھی سات دن باقی ہیں۔
مذاکرات ابھی کیوں نہیں ہو جاتے؟
وزیراعلیٰ نے کہا، “اگر آپ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو ابھی کریں۔ اگر بات چیت بعد میں بھی ہونی ہے تو پھر ابھی کیوں نہ ہو جائے؟”
انہوں نے واضح کیا کہ وہ ماضی میں بھی مذاکرات کے لیے تیار تھے اور آج بھی اس مؤقف پر قائم ہیں۔ “ہم کل بھی بات چیت کے لیے تیار تھے اور آج بھی تیار ہیں۔ ہم نے کبھی مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹے۔”
حکمرانوں پر مفاہمت روکنے کا الزام
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے الزام عائد کیا کہ حکمران ان کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مفاہمت کو روک رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت گزشتہ نو ماہ سے مختلف ریاستی اداروں سے رابطے کی کوشش کر رہی ہے لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ “اسی لیے ہم 27 ستمبر کی کال دینے پر مجبور ہوئے۔”
مارچ سے قبل مذاکرات کا موقع
سہیل آفریدی نے حکام پر زور دیا کہ وہ مارچ سے قبل باقی سات دنوں کو استعمال کرتے ہوئے معاملہ مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کو “ایک شخص کی پالیسی” کے تحت چلایا جا رہا ہے، اور ان کے بقول اس پالیسی کے نمائندے وزیر داخلہ محسن نقوی ہیں۔
اہم نکات
- وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے وفاقی حکومت کو مذاکرات کی کھلی پیشکش کی
- لانگ مارچ سے قبل سات دن باقی ہونے کا اشارہ
- ماضی اور حال دونوں میں بات چیت کے لیے تیاری کا اعادہ
- حکمرانوں پر مفاہمت روکنے اور اداروں سے رابطے کا جواب نہ ملنے کا الزام
- ملک کو “ایک شخص کی پالیسی” پر چلانے کا دعویٰ
